اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا السمری نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ پولیس ہفتے کو علی الصباح جلیل شہر کے کفر کنا قصبے میں فلسطینی شہری خیر حمدان کو گرفتار کرنے کے لیے اس کے گھر میں داخل ہوئی تو اس نے ایک تیز دھارآلے کی مدد سے ایک پولیس اہلکار پرحملے کی کوشش کی جس پرپولیس اہلکاروں کو اپنے ’دفاع‘ اس پر گولی چلانا پڑی ہے۔ گولیاں لگنے سے وہ موقع پرہی دم توڑ گیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ شہید ہونے والے نوجوان پر اسرائیلی فوجیوںپر پتھرائو کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا اور وہ اسی الزام کے تحت اسے گرفتار کرنے گئے تھے۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ اسرائیلی پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے خیر حمدان شدید زخمی ہو گیا۔ اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا بعد ازاں وہ اسپتال لے جاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا۔
الجلیل شہر کے مقامی فلسطینی ذرائع نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ صہیونی فوجیو ںنے فلسطینی نوجوان کو اس وقت گولیاں ماریں جب وہ اپنے گھرمیں موجود تھا تاہم اس کے پاس ایسے کسی خطرناک اوزار کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ نہتے فلسطینی نوجوان کی سفاکانہ حملے میں شہادت کے خلاف مقبوضہ فلسطین میں صہیونی فوج اور پولیس کے خلاف شدید غم وغصے کی فضا پائی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق شہید کے آبائی شہر کفرکنا میں مشتعل شہریوںنے سڑکوں پر ٹائرجلا کرانہیں بند کردیا اور صہیونی مظالم کے خلاف گھنٹوں نعرے لگاتے رہے۔ نوجوان کی شہادت کے خلاف مقامی تاجر بازار بند کرکے مظاہرین میں شامل ہوگئے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
