فلسطینی وزیراعظم اپنے بیرون ملک دورے کے دوران خلیجی ریاست بحرین سے کویت پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے امیرکویت شیخ صبا الحمد جابر الصباح سے ملاقات کی۔ امیرکویت سے ملاقات میں اسماعیل ھنیہ نے انہیں فلسطین کی موجودہ صورت حال بالخصوص غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی جانب سےعائد معاشی پابندیوں،
قبلہ اول کا لاحق خطرات اور بیت المقدس کو یہودیانے کی سازشوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ ملاقات میں فلسطین۔ کویت تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور غزہ کی پٹی کی تعمیرنو پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر امیر کویت شیخ حمد بن جابرالصباح نے وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت مظلوم فلسطینیوں کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ ان کےسیاسی حقوق کے لیےبھی دنیا کے تمام فورمز پر آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کویت خلیج تعاون کونسل اورعرب لیگ کے فورمز سے مسئلہ فلسطین کے لیے ٹھوس کردار ادا کرنے کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے اور آئندہ بھی فلسطینیوں کے جمہوری حقوق اور ان کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
شیخ جابر نےغزہ کی پٹی میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسلط معاشی ناکہ بندی کی مذمت کی اورعالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ پر پابندیاں ختم کرانے کے لیے صہیوی ریاست پر دباؤ ڈالے۔
امیرکویت سے ملاقات کے بعد وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کویتی ایوان صنعت وتجارت کے صدرعلی الغنائم کی زیرصدارت تاجروں اور صنعت کاروں کے ایک سینیئر وفد کے ساتھ ملاقات کی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ فلسطین میں غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے اپنا سرمایہ لگانےکے بے بہا مواقع ہیں۔ انہوں نے کویتی سرمایہ کاروں پرزور دیا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں سرمایہ لگائیں تاکہ فلسطین میں تعمیرکا عمل تیز تر کیا جا سکے۔
کویتی سرمایہ کاروں نے اسماعیل ھنیہ کو یقین دلایا کہ وہ فلسطین میں صنعت سمیت مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کریں گے۔ فلسطینی چیمبرآف کامرس کے اراکین کا کہنا تھا کہ وہ فلسطین کے مخدوش حالات کے باوجود وہاں جانے اور فلسطینی علاقوں میں اپنا سرمایہ لگانے کے لیے تیار ہیں۔
وزیراعظم سےقطرکی رفاعی تنظیم”جمعیت قطرالخیریہ” کے وفد نے بھی ملاقات کی اور غزہ کی پٹی میں اپنے امدادی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ رفاعی ادارے کے منتظمین نے یقین دلایا وہ غزہ کی پٹی کےمظلوم اور ضرورت مند شہریوں کی امداد کے لیے قافلوں کی روانگی کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

