بل کے ذریعے سے اسرائیلی جیل سروس کو یہ حق حاصل ہوجائے گا کہ وہ ضلعی عدالت میں ایک درخواست جمع کروا کر بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیران کو زبردستی کھانا کھلا سکیں گے۔
عبرانی اخبار ہارتس نے اس سے پہلے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے متحدہ حکومت کےممبران پر دبائو ڈالا تھا کہ وہ فوری طور زبردستی کھانا کھلانے کا بل منظور کردیں جس کی مدد سے بھوک ہڑتالی اسیران کی ہڑتال ختم کی جاسکے۔
عرب ممبران کنیسٹ نے بائیں بازو کی پارٹی میریٹس کےساتھ مل کر اس بل کی مخالفت کی جبکہ انتہاپسند پارٹی لیکوڈ نے ان کے موقف کی مخالفت کی۔ لیکوڈ کا موقف ہے کہ،” زبردستی کھانا کھلانے کا کیا فائدہ ہے؟ اگر یہ لوگ مرنا چاہتے ہیں تو انہیں مرنے دیں یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔”
بین الاقوامی قانون بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران کو زبردستی کھانا کھلانے کی اجازت نہیں دیتا ہے مگر اس کے باوجود اسرائیلی کابینہ نے اس بل کی منظوری دے دی ہے۔
پچھلی کچھ دہائیوں کے دوران اسرائیلی جیلوں میں قید تین فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیران زبردستی کھانا کھلانے کی وجہ سے اپنی جان ہار بیٹھے ہیں حالانکہ تمام بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے ادارے اس عمل کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
فادی قواسمہ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے فلسطینی اسیران کی جانب سے بھوک ہڑتال کرکے مطالبات منوانے کے بعد سے مختلف طریقے سوچ رہی تھی تاکہ اس روایت کو ختم کیا جاسکے۔
وکیل کے مطابق بھوک ہڑتالی اسیر کو ناک میں ایک ٹیوب ڈال کر کھانا کھلایا جائے گا۔ اس لئے زبردستی کھانا کھانے والے اسیران کو اسرائیلی ہسپتالوں میں ہی رکھا جائے۔ فادی کے مطابق اسرائیلی حکام ابھی تک انتظامی محروسین کے مطالبات پر مذاکرات کرنے سے گریزاں ہے۔
