مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فتحاوی رہ نما عماد عبدالحافظ نے اپنے استعفے کے ساتھ منسلک ایک بیان میں کہا ہے کہ بلدیہ کرپشن کا گڑھ بن چکی ہے۔ بلدیہ کی جانب سے بجلی کے بل تک ادا نہیں کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بلدیہ میں شامل درجنوں اہلکار کھلے عام رشوت وصول کرتے ہیں۔ بلدیہ کا بجٹ بھی غیرمعمولی اس لیے رکھا گیا ہے تاکہ اس میں شامل لوگ قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرسکیں۔ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے رکھے گئے فنڈز کو محض چند افراد اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کررہےہیں۔ شہر کی صحت و صفائی اور ملازمین کی تنخواہوں کے لیے رکھی گئی رقم بھی بلدیہ کے سینیر عہدیداروں کی جیب میں جاتی ہے اور نچلے درجے کے ملازمین اپنی تنخواہوں سے بھی محروم ہیں۔
عبدالحافظ کا کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی میں اعلیٰ سطح سے لے کرنیچے تک کرپشن عام ہے۔ قلقیلیہ بلدیہ کے تمام ترقیاتی منصوبے ٹھپ ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ان کے پاس فنڈز نہیں جبکہ فنڈز کی کوئی کمی نہیں لیکن قومی فلاح و بہبود کے فنڈز کو صرف چند ایک لوگ اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
