فلسطینی مسیحیوں کی تنظیم [کایروس فلسطین] نے ایک بیان میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مسیحیوں کو اسرائیلی فوج میں بھرتی کرنے کی کوششوں کی بھرپور مذمت کی ہے۔
یہ بیان ایک اسرائیلی فیصلہ کے بعد سامنے آیا ہے جس کے مطابق اسرائیل فلسطینی مسیحیوں اور اسرائیلی حکومت کے نمائںدوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی بنائے گا جس کا مقصد 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے مسیحی نوجوانوں کو یہ ترغیب دینا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج نے بھرتی ہوجائیں۔
کایروس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج میں بھرتی کی ترغیب دینے والے عہدیدار مسیحی چرچ کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کررہے ہیں اور ان سے قومی مفادات اور خود مسیحیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
کایروس کے مطابق "مسیحیوں کو صیہونی فوج میں بھرتی کرنے کا مطالبہ کرنے والے ہماری نمائندگی نہیں کرتے، نہ ہی ہمارے چرچ کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ ہی مسیحیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ صحیح راستے سے ہٹ جانے والوں نے ایک ایسی راہ اختیار کر لی ہے جو کہ نہ ہی ہمارے مفادات اور نہ ہی ہمارے عقیدے کے حق میں ہے۔”
کایروس نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ مسیحیوں کو صیہونی فوج میں بھرتی کرنے کا عمل غیر اخلاقی اور مقدس زمین پر بسنے والے فلسطینی مسیحیوں کی پہچان کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
تنظیم نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے فلسطینی عوام کے خلاف گذشتہ چھ دہائیوں سے جاری مظالم کی روک تھام کے لئے اقدامات کرے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
