فلسطینی قانون ساز کونسل کے فرسٹ ڈپٹی سپیکر ڈاکٹر احمد بحر کے مطابق ڈینمارک کی پارلیمنٹ کے سپیکر موغنس یکیتوفت کی جانب سے اسرائیل کے دورے کے بغیر رام اللہ اور غزہ کے دورے کا اعلان کرنا قابل ستائش ہے۔
احمد بحر نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے اس دورے کو روکنے کی بہت ساری کوششیں کی جائیں گی اور ان کا کہنا تھا کہ اس دورے کو روکنے سے جمہوری عمل کی کوئی خدمت نہیں ہوگی اور یہ عمل سفر اور نقل و حرکت کے تمام حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے یکیتوفت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے دورے کو یقینی بنانے کے لئے دبائو ڈالیں اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی ممبران پارلیمان کی رہائی کے لئے بھی مزید کوششیں کریں۔
بحر نے دنیا بھر کی پارلیمنٹس کے سربراہوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈینمارک کے سپیکر پارلیمنٹ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے غزہ کا دورہ کریں تاکہ یہاں پر رونما ہونے والے انسانی المیہ کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا جاسکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے کا مقصد انسانی بنیادوں پر غزہ کے عوام کی مدد کرنا ہے تاکہ ان کی مشکلات آسان ہوسکیں۔ احمد بحر نے عالمی اور یورپی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے قابض اسرائیل کے فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والے مظالم دنیا کے سامنے لانے کے لئے کئے جانیوالے اقدامات کی بھی تعریف کی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
