فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے مجلس قانون ساز کے اسپیکر اور بزرگ سیاست دان ڈاکٹر عزیز دویک کی صہیونی فوج کے ہاتھوں مغربی کنارے سے گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔
حماس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی اسپیکر کی باربار گرفتاری قبول نہیں، انہیں فوری رہا نہ کیا گیا تو فلسطینیوں کےسخت ردعمل کے سنگین نتائج کا ذمہ دار اسرائیل ہو گا۔
حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ "ہم قابض اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں اپنے بزرگ سیاست دان کی دوبارہ گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم صہیونی حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ دوران حراست ڈاکٹر دویک پرکسی قسم کا تشدد کیا گیا اور ان کی جان کو نقصان پہنچا توسنگین نتائج کی ذمہ داری اسرائیل پرعائد ہو گی”۔
بیان میں فلسطینی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون اور ہر قسم کے مذکرات روک دے۔ حماس رہ نما کی گرفتاری صہیونی ریاست کے ساتھ برتی جانے والی ڈھیل کا نتیجہ ہے۔
بیان میں عرب لیگ اور عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ڈاکٹر دویک کی گرفتاری کے معاملے میں فوری مداخلت کریں اور انہیں صہیونی جیل سے رہائی دلوائیں۔
بیان کے اختتام میں حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ریاست اور فوج کی جانب فلسطینیوں کی گرفتاریوں کے ہتھکنڈے ہمیں اپنے جائز مطالبات سے دستبردار کرنے کے لیے استعمال کیےجا رہے ہیں، لیکن حماس دشمن پر یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کا راستہ ترک کر دے۔ حماس پر دباؤ ڈالنے کا خوب بھول جائے۔ گرفتاریاں اور ٹارگٹ کلنگ حماس کو اپنی قوم کے جائز حقوق اور مطالبات سے باز نہیں رکھ سکتے۔

