اسلامی تعاون تنظیم نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی جانب سے مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں حضرت مسیح علیہ السلام کے مقام پیدائش کو عالمی ورثہ قرار دینے
کے فیصلے کی تحسین کی ہے۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر اکمل الدین احسان اوگلو نے کہا ہے کہ چرچ آف نیٹی ویٹی کو عالمی ورثہ قرار دے کر یونیسکو نے فلسطینی میراث کو تحفظ فراہم کیا ہے۔ یہ اقدام فلسطینیوں کی بہت بڑی کامیابی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق او آئی سی کی ویب سائیٹ پر شائع تنظیم کے سیکرٹری جنرل پروفیسر اکمل الدین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بیت لحم کے چرچ آف نیٹی ویٹی کو عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کرکے یونیسکو نے قابل قدر اقدام اٹھایا ہے۔ یونیسکو کا یہ اقدام فلسطین میں موجود تمام مقدس مقامات کو تحفظ فراہم کرنے کی جانب نقطہ آغاز ہے۔ اس سے فلسطین میں موجود مقدس، مذہبی اور تاریخی مقامات کو منہدم کرنے کے صہیونی خطرات سے تحفظ فراہم ہوگا۔
خیال رہے کہ جمعہ کو روس کے شہر سینٹ پیٹرس برگ میں یونیسکو کے اجلاس میں فلسطین میں حضرت عیسی علیہ السلام کے مقام پیدائیش چرچ آف نیٹی ویٹی کو عالمی ورثہ قرار دینے کے لیے رائے شماری کی تھی۔ رائے شماری کے دوران امریکا اور اسرائیل نے اس اقدام کی مخالفت کی تاہم اس مخالفت کے باوجود کثرت رائے سے چرچ کو عالمی ورثہ قرار دیا گیا۔ گذشتہ برس یونیسکو کی جانب سے فلسطین کو مستقل ممبر کا درجہ دیتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست کو بھی تسلیم کرلیا گیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
