اسرائیلی خفیہ اداروں نے گذشتہ برس اکتوبرمیں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے ایک سمجھوتے کے تحت رہا کیے گئے ایک ہزارفلسطینیوں میں سے چالیس کو دوبارہ گرفتارکرنے یا انہیں قتل کرنے کی ایک خفیہ اسکیم تیار کی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مقرب خیال کیے جانے والے عبرانی اخبار”یدیعوت احرونوت” نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوج کے زیرانتظام داخلی سلامتی کے ادارے”شاباک” نے ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں چالیس سابق اسیران کے ناموں کے گرد سوالیہ علامات لگانے کے بعد بتایا ہے کہ یہ سابق اسیررہائی کے بعد دوبارہ مزاحمتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ انہیں اس طرح کی سرگرمیوں سے باز رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان چالیس افراد کو یا تودوبارہ حراست میں لے لیا جائے یا انہیں قتل کردیا جائے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "شاباک” کے ہاں مرتب کردہ رپورٹ میں سابق فلسطینی اسیران کی سرگرمیوں کو "دہشت گردانہ” قراردیتے ہوئے "ان کی جانوں کی ذمہ داری ان کے ہاتھوں میں” جیسی خفیہ اصطلاح استعمال کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اصطلاح عموما اس شخص کے خلاف استعمال کی جاتی ہے جسے یا توحراست میں لینا ہوتا ہے یا اسے قتل کرنا مقصود ہوتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے گذشتہ برس حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے نتیجے میں پہلے مرحلے میں 450 فلسطینی اسیران کو رہا کیا تھا، ان میں سے 47 سابق اسیران دوبارہ مزاحمتی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے، جن میں سے سات کوحراست میں لیا جا چکا ہےاور انہیں سابقہ مقدمات کے تحت دی گئی سزاؤں کے مطابق جیلوں میں رکھا جائے گا، جبکہ بقیہ چالیس کی گرفتاری یا انہیں قتل کرنے کی اسکیم زیرغور ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

