رپورٹ کے مطابق حوارہ چوکی کے قریب سے گذرنے والے ایک فلسطینی نوجوان کو کنٹرول ٹاور پرکھڑے فوجی نے رکنے کا اشارہ کیا۔ فلسطینی نوجوان کے رکنے پر اسے وہیں بغیر کسی جرم کے گولیاں مار دی گئیں جن کے نتیجے میں وہ موقع پرہی دم توڑ گیا۔ عینی شاہدین نے اسرائیلی فوج کا دعویٰ مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی شہری نے فوجیوں پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہید فلسطینی نوجوان کا تعلق مغربی کنارے کے جنین شہر سے ہے اور اس کی شناخت 19 سالہ وسام مروان القصراوی کے نام سے کی گئی ہے۔
ایک دوسرے عینی شاہد نے بتایا کہ شہید کیے گئے فلسطینی نوجوان کے پاس کوئی چاقو تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا دستی ہتھیار تھا۔ اسے بلا جواز گولیاں ماری گئی ہیں۔ عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق شہید فلسطینی حوارہ کے مقام پر ایک فیکٹری میں ملازم تھا جو اپنی ڈیوٹی پر جا رہا تھا۔ چوکی پر کھڑے ایک فوجی نے اسے اپنی طرف بلایا۔ جب وہ قریب پہنچا تو اسے گولیاں مار کر شہید کردیا۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ گولیاں مارنے کے بعد فلسطینی نوجوان کو سڑک پر پھینک دیا گیا جہاں وہ دیر تک تڑپتا رہا۔ اسے چاروں طرف سے اسرائیلی فوجیوں نے گھیرے میں لے رکھا تھا اورایمبولینس کو اس کے قریب جانے سےروک دیا گیا۔
خیال رہے کہ فلسطین میں یکم اکتوبر 2015 ء کے بعد سے جاری تحریک انتفاضہ کے دوران اب تک 162 فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بیشتر شہداء کو یہودی فوجیوں پر چاقو سے حملوں کی کوشش کے الزامات کے تحت گولیاں ماری گئیں مگر کسی غیر جانب دار ذرائع سے ان شہداء کو قصور وار قرار نہیں دیا جا سکا ہے۔
