رپورٹ کے مطابق چاروں شہدا 17 سالہ علاء عبد کوازبہ، 20 مہند زیاد کوازبہ، 21 سالہ احمد سالم کوازبہ اور 16 سالہ خلیل محمد شلالدہ کی نماز جنازہ ان کے آبائی قصبے سعیر میں ادا کی گئی۔ چاروں شہداء کی اجتماعی نماز جنازہ وسطی سعیر میں العیص مسجد میں ادا کی گئی جہاں الخلیل شہر کے علاوہ مغربی کنارے کے دوسرے شہروں سے آئے فلسطینی شہری بھی بڑی تعداد میں شریک تھے۔ بعد ازاں چاروں شہداء کو عوام کے جم غفیر میں شہداء قبرستان لے جایا گیا جہاں انہیں سپرد خاک کردیا گیا۔
جنازے کے جلوس میں شریک ہزاروں افراد صہیونی فوج کی دہشت گردی کے خلاف سخت غم وغصے میں تھے۔ انہوں نے صہیونی ریاست کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور فلسطینی مجاھدین سے مطالبہ کیا کہ وہ بے گناہ طورپر شہید کیے گئے فلسطینیوں کا بدلہ لیں اور دشمن کو بھی سبق سکھائیں
رپورٹ کے مطابق نماز جنازہ کے جلوس میں مقامی سیاسی اور سماجی رہ نما ارکان پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے مندوبین کے ساتھ ساتھ میڈیا کے نمائندے بھی موجود تھے۔
خیال رہے کہ صہیونی فوجیوں نے جمعرات کے روز ایک ہی خاندان کے تین نوجوانوں مہند، علاء اور احمد کو 7 جنوری 2016 ء کو گوش عتصیون اور خلیل محمد شلالدہ کو سعیر قصبےکی بیت عینون کالونی میں گولیاں مار کر شہید کیا تھا۔
