مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جنیوا میں انسانی حقوق کے صدر دفترمیں غزہ کی پٹی میں سات جولائی 2014 ء سے 26 اگست 2014 ء تک اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم کی عالمی سطح پرتحقیقات سے متعلق درخواست پاکستان کی جانب سے دی گئی تھی۔ دوسری جانب اسرائیل نے انسانی حقوق کونسل کی اس قرارداد کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔
قرارداد میں عالمی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ جنگ میں جنگی جرائم میں ملوث عناصر بالخصوص اسرائیلی فوج کے جرائم کی عالمی سطح پر تحقیقات کرائے اور جنگی جرائم میں ملوث صہیونیوں کو قانون کے کہٹرے میں کھڑا کرے۔
قرارداد کی فرانس، جرمنی اور برطانیہ سمیت 45 ممالک نے حمایت کی جب کہ امریکا اور اسرائیل نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ اس موقع پر بھارت اور کینیا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
اس موقع پر انسانی حقوق کونسل میں اسرائیلی مندوب "ایویتارمانور” نے قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز کارروائی قراردیا تاہم کونسل میں فلسطینی مندوب ابراہیم خریشہ نے قرارداد کو مثبت قدم قراردیتے ہوئے اس پرکارروائی آگے بڑھانے پر زور دیا۔
فلسطینی مندوب کا کہنا تھا کہ یو این کی انسانی حقوق کونسل میں غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم کی تحقیقات سے متعلق قرارداد کا بھاری اکثریت کے ساتھ منظور ہونا اس بات کابین ثبوت ہے کہ صہیونی فوج نے دوران جنگ وحشیانہ جنگی جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ اب اسرائیل اسی وجہ سے تحقیقات سے بچنے کے لیے اس نوعیت کی قراردادوں کی مخالفت کررہا ہے۔
اس قرارداد کی اہم پیش رفت یہ ہے کہ فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک نے بھی اسرائیلی فوج کے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ جنگی جرائم کو تسلیم کیا ہے اور ان کی شفاف تحقیقات میں عالمی برادری کے ساتھ ہم آواز ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماضی میں یہ دونوں ملک اسرائیل کے خلاف آنےوالی کسی بھی قرارداد ویٹو کرنے میں امریکا کے دست وبازو ثابت ہوتے تھے۔
انسانی حقوق کونسل میں یہ قرارداد ایک ایسے وقت میں منظور کی گئی ہے جب حال ہی میں اقوام متحدہ کی ایک دوسری قرارداد میں کہا گیا تھا کہ غزہ جنگ سنہ 2014 ء کے دوران فریقین کی جانب سے سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے شواہد موجودہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
