پاکستان میں مقیم فلسطینی سفیر ڈاکٹر ہازم ابو شناب نے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی دعوت پر کراچی میں آئے ہوئے ایشیائی ممالک کے مندوبین برائے گلوبل مارچ ٹو یروشلم کے شرکاء سے ملاقات کی
اس موقع پر ایشیائی ممالک کے مندوبین میں انڈونیشیا،ملیشیا،فلپائن،انڈیا اور پاکستان کے مندوبین شریک تھے جبکہ پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیبر ایجوکیشن سینٹر کے چیئر مین کرامت علی اور عالمی مارچ برائے آزادئ القدس کی مرکزی کمیٹی کے رکن فیروز مٹھی بور والا،فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی ترجمان صابر کربلائی سمیت متعدد افراد موجود تھے۔
شرکائے عالمی مارچ برائے آزادئ القدس سے ملاقات کے دوران فلسطینی سفیر ڈاکٹر ہاشم ابو شناب کا کہنا تھا کہ میرے خاندان کی چار نسلیں فلسطین سے ہجرت کرنے ر مجبور ہوئی ہیں اور ہم آج تک آوارۂ وطن ہیں او ر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے وطن واپس جائیں اور ہم یہبھی چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اپنے وطن میں رہ پائیں نہ کہ مہاجرین کی زندگی گزاریں ۔ان کا کہنا تھا کہ گلوبل مارچ ٹو یروشلم کی کوشش ایک ایسی نوبل تحریک ہے جس کے بعد امید ہے کہ فلسطین بہت جلد غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے قبضے سے آزاد ہو جائے گا۔
فلسطینی سفیر کاکہنا تھا کہ پاکستان میں فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے قیام اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے کی جانے والی کوششوں کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتا ہوں ان کاکہنا تھا کہ فلسطین کے عوام کو متعدد مسائل جن میں معاشی،سماجی،تعلیمی اور دیگر مسائل سامنا ہے لیکن گلوبل مارچ ٹو یروشلم کی تحریک سے واضح ہوتاہے کہ بہت جلد فلسطین ایک آزاد ریاست ہو گا انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہودیوں ،عیسائیوں اور کسی کے بھی دشمن نہیں بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو بھی سنہ ۴۸ء کے وقت کے فلسطینی ہیں وہ اپنے وطن واپس لوٹ جائیں اور فلسطین کی ریاست میں سب مذاہب کے لوگ آزادی کے ساتھ زندگیاں گذاریں ،انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسرائیل جیسی غیر قانونی اور غاصب ریاست کے سامنے کسی صورت سر تسلیم خم نہیں کریں گے۔

