مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وینز ویلا کی خاتون وزیر خارجہ "ڈیلسی روڈر ریگیز” نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں بتایا کہ "ہم فلسطین میں اپنے نمائندہ قونصلیٹ کو ایک سفارت خانے کے درجے تک لے جانا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں صدر مملکت نیکولاس ماڈورو نے خصوصی ہدایات بھی دے دی ہیں جن کے مطابق جلد ہی کارروائی شروع کردی جائے گی”۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق وینز ویلاکی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ گذشتہ ہفتے فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی کے دورے کے جواب میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے پچھلے ہفتے وینز ویلا کا دورہ کیا تھا جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف یاداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے تھے۔
وینز ویلا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطینی وزیرخارجہ کے دورے کے دوران دونوں ملکوں میں باہمی تعاون کے 18 معاہدوں پر دستخط ہوئے، جن میں تجارت، تعلیم، توانائی، صحت اور زراعت کے شعبے شامل ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطین اور وینز ویلا کے درمیان سفارتی تعلقات سابق آں جہانی صدر ہوگوشاویز کے دور میں سنہ 2009 ء میں قائم ہوئے تھے۔ اس سے کچھ ہفتے قبل سنہ 2008 ء میں اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر حملے کے رد عمل میں وینز ویلا نے احتجاجا صہیونی ریاست سے تعلقات توڑ لیے تھے اور کراکاس میں موجود اسرائیلی قونصل جنرل کو ان کے دیگر سفارتی عملے سمیت نکال دیا گیا تھا۔
کل جمعہ کے روز وینز ویلا کی حکومت نے فلسطین میں اپنے عمومی قونصل خانے کادرجہ ایک سفارت خانے تک بڑھانے کا علان کیا ہے جس پر اسرائیل سخت برہم ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
