فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں گذشتہ برس اکاون روز تک جاری رہنے والی اسرائیلی فوج کی خونخوار درندگی اور اس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ فلسطینیوں کے قتل عام کی تحقیقات کرنے والی اقوام متحدہ کی کمیٹی کے سربراہ ولیم شاباس کے کمیٹی سے استعفے کے بعد تحقیقات کا عمل کئی خدشات میں گھرا دکھائی دے رہا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل کے دبائو کے بعد ولیم شاباس کے استعفے کے وہی نتائج سامنے آئیں گے جو سنہ 2009ء کی جنگ کی تحقیقات کے لیے رچرڈ گولڈ اسٹون کی قیادت میں بنائی گئی رپورٹ کے سامنےآ چکے ہیں۔ اس رپورٹ کو بھی امریکا اور اسرائیل نے اقوام متحدہ میں منظور نہیںہونے دیا اور اسرائیل کو جنگی جرائم کے الزام سے بچا لیا گیا۔ بعینہ جولائی 2014ء کی جنگ میں اسرائیل کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ولیم شاباس کی نگرانی میں قائم کمیٹی نے بھی اب تک جتنے اعداد وشمار جمع کیے ہیں۔ ان میں اسرائیل کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔
اگرچہ تحقیقات کی حتمی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے مگرولیم شاباس کے استعفے سے ئی واضح ہوگیا ہے کہ اسرائیل اور پور دنیا میں سرگرم صہیونی لابی عالمی اداروں پر دبائو ڈال کر صہیونی ریاست کو جنگی جرائم کے الزام سے بچانے کے لیے کوشاں ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل نے ولیم شاباس کی نگرانی میں قائم اقوام متحدہ کی کمیٹی کو پہلے تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ تعاون سے انکار کردیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے ہٹ دھرمی کا اظہار اس بات کا مظہر تھا کہ کسی نہ کسی مقام پر اسرائیل دبائو اور دھونس کے ذریعے ولیم شاباس کو ہٹانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ ایسا ہی ہوا۔ مغربی دنیا میں اسرائیلی سفیروںنے شاباس کو بدنام کرنے کے لیے بھرپور شرانگیز مہم چلائی اور آخر کارانہیں متنازعہ بنانے کے بعد استعفے پرمجبور کردیا گیا۔
اسرائیل جنگی جرائم کی تحقیقات نہیں ہونے دے گا
انسانی حقوق کی تنظیم”المیزان” کے چیئرمین عصام یونس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی سے ولیم شاباس کا استعفیٰ غیر متوقع نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کسی صورت میںبھی غزہ کی پٹی میں اپنی فوج کے ہاتھوں ہونے والے جنگی جرائم کی تحقیقات نہیںہونے دے گا۔ حتیٰ کہ کسی معمولی واقعے کی تحقیقات کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کرتا رہے گا کیونکہ اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ اسے عالمی اداروں کی جانب سے ہرممکن تحفظ حاصل ہے اور اس کی فوج فلسطینیوں کے خلاف جو مرضی کھیل کھیلے اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے کیونکہ وہ عالمی اداروں پر اثرانداز ہو کر صہیونی ریاست کو جنگی جرائم کے الزامات سے بری کرلیتا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے عصام یونس کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی اسرائیل نے کبھی اپنے جنگی جرائم کی آزادانہ تحقیقات نہیں ہونے دیں۔ سنہ 2008 اور 2009ء میں مسلط کردہ جنگ کے بعد قائم کی گئی اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کے ساتھ تعاون سے صاف انکار کردیا تھا۔ گذشتہ برس کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے جو کمیٹی بنی اس کے ساتھ بھی تعاون سے انکار کردیا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں فلسطینی انسانی حقوق کے امور کے ماہر کا کہنا تھا کہ اگرچہ اقوام متحدہ کی حالیہ کمیٹی نے جنگ سے متاثرہ علاقے غزہ کی پٹی کا دورہ نہیں کیا ہے مگر اب تک کمیٹی نے پیشہ وارانہ انداز میں تحقیقات کا عمل جاری رکھا۔ کمیٹی نے اپنی طرف سے رپورٹ کافی حد تک مکمل کرلی ہے اور امکان ہے کہ جلد ہی اسے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میںپیش کردیا جائے گا۔
انہوںنے مزید کہا کہ یو این تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ولیم شاباس کا استعفیٰ تحقیقات کی راہ میں ایک رکاوٹ ضرور پیدا کرے گا۔ امکان ہے کہ اس رپورٹ کا انجام بھی سنہ 2008ء کی جنگ کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کی "گولڈ اسٹون” رپورٹ کا ہو کیونکہ گولڈ اسٹون رپورٹ کو ناکام بنانے میں بھی اسرائیل نے عالمی یہودی لابی کی مدد سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا اور بالآخر اسرائیل اور عالمی یہودی لابی امریکا اور فلسطینی اتھارٹی کو ساتھ ملانے اور گولڈ اسٹون کو سرد خانے میں ڈالنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
مثبت نتیجہ
انسانی حقوق کی تنظیم”یور۔ مڈل ایسٹ انسانی حقوق آبزرویٹری” کے چیئرمین رامی عبدہ نے عصام یونس کے خیالات سے اختلاف کیا۔ انہوںنے کہا کہ ولیم شاباس کے استعفے کا غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات میں مثبت اثرات مرتب ہوںگے اور استعفے کے نتیجے میں تحقیقاتی عمل متاثر نہیںہوگا۔
مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں ولیم شاباس کے استعفے کے نتیجے میں تحقیقاتی کمیٹی پر مثبت اثرات مرتب ہوںگے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ شاباس کا استعفیٰ اگرچہ کمیٹی کےلیے ایک بڑے خسارے اور نقصان کا موجب ہے کیونکہ شاباس عالمی قانون کے ماہر سمجھے جاتے ہیں تاہم ان کے استعفے سے تحقیقاتی کمیٹی کو مزید ان سے بہتر کسی دوسرے عالمی محقق کو تلاش کرنے کا موقع ملے گا۔ عین ممکن ہے کہ کوئی ایسی غیر جانب دار شخصیت سامنے آئے جس پر اسرائیل الزام تراشی نہ کرسکے اور اسرائیل یہ نہ کہہ سکے کہ فلاں فلاں نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ جانبدارانہ طرز عمل اپنا رکھا ہے۔
اسرائیل کا دبائو
خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ولیم شاباس کے استعفے پر فلسطین کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے جو رد عمل سامنے آیا اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاباس کا استعفیٰ اسرائیل اور عالمی یہودی لابی کےدبائو کا نتیجہ ہے۔ اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” نے بھی ولیم شاباس کے استعفے کو صہیونی ریاست اور عالمی صہیونی لابی کے دبائو کا نتیجہ قرار دیا۔
حماس کے ترجمان ڈاکٹر فوزی برھوم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی اپنے قیام کے پہلے روز ہی سے اسرائیل اور عالمی یہودی لابی کا شکار رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ہمیشہ ہر اس اقدام کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جاتی رہی ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو انصاف فراہم کرنا رہا ہو۔ بھلا اقوام متحدہ کے زیراہتمام فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لے قائم کسی کمیشن پر اسرائیل کیسے اثرانداز نہیں ہوگا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
