فلسطینی وزارت خارجہ نے یروشلم کے مشرق میں واقع احفاد یونس کے علاقے پر اسرائیلی حملے اور طاقت کے ناجائز استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔
ایک بیان میں وزارت نے اسرائیلی کی مقبوضہ یروشلم میں موجود غیر قانونی پالیسیوں اور اقدامات کی مذمت کی خاص طور پر پرامن کارکنوں کو دبانے کی کوشش کی مذمت کی۔
انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے اسرائیلی اقدامات فلسطینی انسانی حقوق کی بالعموم اور بالخصوص پر امن احتجاج کرنے کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
یہ کہا جاتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات اسرائیل کے فلسطینی زمینوں پر قبضے کو بڑھانے کی اور مغربی کنارے کو تقسیم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ، او آئی سی، عرب لیگ اور تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر آبادکاری کی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائیں اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لئے اقدام کریں۔
قابض اسرائیلی فوج نے اتوار کو علی الصبح انسانی حقوق کے کارکنوں کے کیمپ پر دھاوا بول دیا اور ان پر تشدد کیا اور ان میں اکثر کو حراست میں لے لیا تھا۔
سیکڑوں فلسطینیوں نے بدھ کے روز یروشلم کے مشرق میں غیر قانونی یہودی بستی معالے عدومم کے قریب اس مضافاتی علاقے میں اپنی زمینوں پر درجنوں ٹینٹ کھڑے کر کے اس علاقے میں اسرائیل کے آبادکاری منصوبے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کی کوشش کی۔
یہ احتجاجی تحریک کے منتظمین نے بتایا کہ احفاد یونس کا علاقہ باب الشمس کے مضافاتی علاقوں میں سے ایک تھا اور اسے دو ماہ قبل قائم کیا گیا تھا اور بعد میں اسے قابض اسرائیلی حکام نے زبردستی ہٹا دیا تھا۔
علاقے کا یہ نام لبنانی مصنف الیاس خوری کے ناول باب الشمس میں سے لیا گیا ہے۔ اس ناول میں فلسطین کی تاریخ کو ایک فلسطینی نوجوان یونس اور اس کی زوجہ ناہیلہ کے درمیان رومانوی داستان کے ذریعے سے بتایا گیا ہے۔ یونس اپنی بیوی کو چھوڑ کر فلسطینی مزاحمت کے ہمراہ لڑنے لبنان چلا جاتا ہے اور اس کی بیوی ناہیلہ اس کے گاوں غلیلی میں ثابت قدمی کے ساتھ جمی رہتی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
