مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کے روز اسرائیلی تعمیرات وپلاننگ کمیٹی کا اجلاس علی الصباح شروع ہوا اور سہ پہر تک جاری رہا۔ اجلاس میں فلسطینی شہریوں کی جانب سے وادی حلوہ اور سلوان میں یہودی تعمیرات کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردیں جن میں قدیم بیت المقدس کی دیواروں سے محض 20 اور مسجد اقصیٰ سے صرف 100 میٹر دور چھ ایکڑ رقبے پر کئی عمارتوں کے منصوبوں پر کام شروع نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس میں یہودی تعمیرات کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر داخلہ گیدعون ساعر کی جانب سے صہیونی تعمیراتی کمیٹی پر سخت دباؤ ہے۔ اس وقت تین اہم ادارے مل کر بیت المقدس کو یہودیت میں تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ تین ادارے اسرائیلی حکومت، بیت المقدس میں اسرائیل کی لوکل گورنمنٹ اور "العاد” نامی تنظیم ہیں، جو رات دن بیت المقدس میں تعمیرات کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی ریاست نے مسجد اقصیٰ کے جنوب میں یہودی توسیع پسندی کے کئی منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ ان میں مذہبی اسکولوں کا قیام، سیاحتی مراکز، ہوٹل اور یہودی معابد شامل ہیں۔ یہ تمام ادارے فلسطینیوں سے غصب کردہ ان کی چھ ایکڑ زرعی اراضی پر بنائے جارہے ہیں۔ سنہ 1967ء کی جنگ سے قبل فلسطینی شہری اس اراضی کو کاشت کاری اور کھیتی باڑی کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اب اسی جگہ پر "العاد” کے تعاون سے "قیدیم آڈیٹوریم” کے قیام کا منصوبہ شروع کیا گیا۔ آڈیٹوریم کی عمارت سات منزلہ ایک وسیع وعریض بلڈنگ ہوگی جس کی تین سے چار منزلیں زیرزمین ہوں گی۔ مجموعی طور پر یہ عمارت 17 ہزار مربع میٹر کا رقبہ گھیرے گی۔ بلڈنگ کی بیس منٹ میں 250 کاروں کی پارکنگ کی گنجائش کے لیے ایک پارکنگ اسٹینڈ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ نے سنہ 2002ء اور 2003ء کے دوران وادی سلوان کے اسی علاقے میں زیرزمین کئی سرنگیں کھودیں اور یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی تھی کہ یہاں پر کسی زمانے میں یہودیوں کے قدیم کھنڈرات پائے گئے ہیں۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن نے بیت المقدس بالخصوص وادی سلوان اور وادی حلوہ میں یہودیت کی توسیع پسندانہ سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالم اسلام سے اس کی فوری روک تھام کی اپیل کی ہے۔ قبلہ اول کے محافظ ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیل جس تیزی کے ساتھ بیت المقدس کا نقشہ تبدیل کر رہا ہے، مسلمانوں کو اس سے کہیں زیادہ وسائل اور طاقت کے استعمال سے اپنے تاریخی اور مقدس شہر کو بچانا ہوگا۔
