اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اردنی حکومت کے دباو کے بعد مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کے اوپر بنائے گئے لکڑی کے پل کو گرانے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار "ہارٹز” کے مطابق وزیراعظم ہاوس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کے اوپر بنائے گئے پل کو فوری طور پر گرایا جائے۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ پل فوجیوں نے یہودی آباد کاروں کی قبلہ اول تک رسائی کی سہولت کے لیے بنا رکھا ہے تاہم اب اس کی مسماری اردنی حکومت اور اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ ششم کی جانب سے صہیونی حکومت پر دباو کے نیتجے میں کی جا رہی ہے۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار "ہارٹز” کے مطابق وزیراعظم ہاوس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کے اوپر بنائے گئے پل کو فوری طور پر گرایا جائے۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ پل فوجیوں نے یہودی آباد کاروں کی قبلہ اول تک رسائی کی سہولت کے لیے بنا رکھا ہے تاہم اب اس کی مسماری اردنی حکومت اور اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ ششم کی جانب سے صہیونی حکومت پر دباو کے نیتجے میں کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مراکشی دروازے پر لکڑی کا یہ پل دو ہفتے قبل مکمل کیا گیا تھا، جس پر اردنی حکومت نے سخت احتجاج کرتے ہوئے اسے یک طرفہ قرار دے کر پل کو فوری طور پر توڑنے کا حکم دیا تھا۔
اسرائیلی حکومت کے ایک سرکردہ عہدیدار کا کہنا ہے کہ مراکشی دروازے پر پل بیت المقدس کی مقامی حکومت کے ایماء پر بنایا گیا تھا، جس کا مرکزی حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس کا حکم وزیراعظم کی کابینہ کی جانب سے نہیں دیا گیا۔
