مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے گذشتہ روز کابینہ کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "اسلامی تحریک کی شمالی شاخ دہشت گرد تنظیم ہے اور اس سے "کاخ” نامی تنظیم کی طرح نمٹا جائے گا جس پر سنہ 1994ء میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے کابینہ کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد ایک کمیٹی تشکیل دے جو مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948ء کے علاقوں میں سرگرم اسلامی تحریک کی سرگرمیوں پر پابندی پرغور کر سکے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرمواصلات”یسرائیل کاٹز” نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے زیرانتظام آنے والے عرب علاقوں میں انتہا پسند عناصر کو طاقت کے ذریعے کچلنے کا حکم دیں۔ اس کے جواب میں نیتن یاھو نے کہا کہ میں نے اسلامی تحریک پرپابندیوں کے نفاذ کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل کا حکم دے دیا ہے۔ یہ کمیٹی جلد اپنی سفارشات سے حکومت کو آگاہ کرے گی۔
اسرائیلی اخبار”ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نیتن یاھو نے اپنے سیکرٹری "افیحائی منڈل پیٹ” کو مخاطب کرتے ہوئے اسلامی تحریک پر پابندی پرغور سے متعلق کمیٹی کی وضاحت چاہی تو انہوں نے کہا کہ وزارت قانون و انصاف اسلامی تحریک پر پابندیوں کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی وزارت قانون کا قلم دان زیپی لیونی کے پاس ہے اور اسلامی تحریک پر پابندی کی حامی نہیں ہیں۔
