اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 2 کے نامہ نگار ’’اوڈے سیگل‘‘ نے ذرائع کےحوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ نیتن یاھو کے دائیں بازو کے متشدد یہودیوں کے ساتھ خفیہ معاہدے کا مقصد اپنی حکومت کو مضبوط بنانا اور یہیودی آباد کاری روکنے کے مطالبات کے خلاف راہ ہموار کرنا ہے۔
سیگل کا کہنا ہےکہ گذشتہ بدھ کو پارلیمنٹ میں شامل انتہا پسند یہودی سیاسی گروپوں کے نمائندوں نے وزیراعظم یاھو سے ملاقات کی۔ ملاقات میں’’جیوش ہوم‘‘ کے صدر نفتالی بینٹ بھی موجود تھے۔ موصوف اس سے قبل حکومت کو بار بار یہ دھمکی دے چکے کہ اگر وہ یہودی آباد کاری کا سلسلہ دوبارہ شروع نہیں کرتی تو وہ حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کریں گے۔ اجلاس میں یہودی توسیع پسندی کے نگران زئیف زمبیش بھی موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق جیوش ہوم کے سربراہ نفتالی بینت نے وزیراعظم سے کہا کہ ’’فیوچر‘‘ پارٹی کے سربراہ یائر لبید اور موومنٹ پارٹی کی زیپی لیونی انتخابات میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ لہٰذا اس موقع سے یہودی آباد کاری کی توسیع کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی ٹی وی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ خفیہ ڈیل میں کم سے کم دو ہزار نئے مکانات کی تعمیر پر اتفاق کیا گیا ہے۔ ان میں سے بیشتر مکانات مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیر کیے جائیں گے اور کئی سو مکانات کی تعمیر کے لیے مشرقی بیت المقدس کو مختص کیا گیا ہے۔
خفیہ ڈیل میں مغربی کنارے میں یہودی کالونیوں کو باہم مربوط کرنے والی شاہراہ 60 کی ازسرنو تعمیر اور اس کی توسیع بھی شامل ہے۔ اس معاہدے کے بعد نیتن یاھو کو انتہاپسندوں اور دائیں بازو کے مخالف سیاست دانوں کی جانب سے ایک سہارا ملا ہے۔ اسرائیل کے وہ حلقے جو نیتن یاھو حکومت پر یہودی توسیع پسندی میں سست روی کا الزام عائد کرتے تھے اب وہ خاموش ہو گئے ہیں کیونکہ وزیراعظم نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ معاہدے کے مطابق جلد از جلد مکانات کی تعمیر کا کام شروع کریں گے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
