فلسطینی تجزیہ نگاراور عرب اسٹڈی آرگنائزیشن کے چیئرمین خلیل التفکجی نے کہا ہے کہ نتین یاھو نے بیت المقدس میں ڈیڑھ ہزار مکانات کی تعمیر کے ٹینڈر طلب کرنے کی منظوری دینے کے بعد عالمی رہ نمائوں کو خطوط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں وہ بیت المقدس کو یہودیانے کےمنصوبوں پرعالمی رہ نمائوں کو اعتماد میں لیں گے۔
التفجکی کا کہنا ہے کہ نیتن یاھوکا مکتوب اپنی نوعیت کا خطرناک مراسلہ ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں وہ عالمی رہ نمائوں کو یہ بتائیں گے کہ بیت المقدس کو آئندہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ نیزشہر کے تمام مشرقی، مغربی، شمالی اور جنوبی علاقوں میں جہاں اسرائیل چاہے گا آباد کاری کا عمل جاری رکھے گا۔ اس ضمن میں صہیونی وزیراعظم یہ بتائیں گے کہ بیت المقدس میں 1500 مکانات کی تعمیر اور نئی یہودی کالونیاں کا قیام اسرائیل کا اپنا فیصلہ ہے کسی کو اس کی مخالفت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ صہیونی وزیراعظم کی جانب سے حال ہی میں اعلان کیا گیا تھا کہ بیت المقدس کی پہلے سے قائم یہودی کالونیوں میں 77 مکانات تعمیر کیے جائیں گے جبکہ بیت صفافا کےمقام پر’’جفعات ھمٹوس‘‘ کے نام سے ایک نئی یہودی کالونی بھی قائم کی جا رہی ہے جس میں 1500 مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔
ادھر اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 7 نے اپنی ویب سائیٹ پرشائع رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حکومت نےمقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں فلسطینیوں کی 2026 مکانات کی ایک فہرست تیار کی ہے جنہیں رواں سال مسمار کردیا جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
