اسرائیلی اخبار "ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق فوجی افسر رونی نومہ اسے قبل فوج کے چھاتہ بردار دستے کا سربراہ اور لیڈرشپ ملٹری کالج کا نگران رہ چکا ہے لیکن حال ہی میں اس کی کرنل کے عہدے پر ترقی کی ایک درخواست دی گئی تھی جسے آرمی چیف نے منظور کرلیا ہے۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق کرنل رونی نومہ نے سنہ 2001 ء میں مغربی کنارے کے شہر طولکرم میں ایک گاڑی میں سوار فلسطینی شہری کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب اسرائیلی وزیرسیاحت رحباعام زئیفی کو نامعلوم حملہ آوروں نے ہلاک کردیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق صہیونی فوجی ایک جیپ میں سوار تھے جبکہ فلسطینی شہری اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ سڑک پر جا رہا تھا کہ اس دوران مسٹر رونی نے ساتھیوں سمیت فلسطینی کار سوار پر فائرنگ کردی۔ فلسطینی نوجوان کو شدید زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا۔
انسانی حقوق کے ادارے "ہموکیڈ” کی جانب سے سنہ 2002 ء میں اس بہیمانہ قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ صہیونی حکام نے سنہ 2008 ء تک تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا اور آخر کار ملٹری پراسیکیوٹر جنرل نے تسلیم کیا کہ رونی نومہ نے غلط طور پر فائرنگ کی تھی اسے ایسے کسی فلسطینی نوجوان کو نشانہ بنانے کی ہدایات نہیں دی گئی تھیں۔ اس کے باوجود نہ صرف فوجی اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ اسے الٹا کرنل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔
