اسرائیل کے عبرانی اخبار کی ویب سائیٹ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ زخمی فلسطینی نوجوان عبدالفتاح الشریف کو گولیاں مار کر شہید کرنے میں ملوث اسرائیلی فوجی اہلکار کو جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ فوجی اہلکار کو فوجی اڈے میں تعینات کیا جائے۔
قبل ازیں اسرائیل کے ملٹری پراسیکیوٹر نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ فوجی اہلکار کو ضمانت پر رہا کرتے ہوئے اسے فوجی اڈے میں فوج کی تحویل میں رکھنے کی اجازت فراہم کرے۔ عدالت نے ملٹری پراسیکیوٹر کی ہدایت پر عمل کرتے اسرائیلی فوجی کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ بعد ازاں فوجی اہلکار کو ’’کفیر‘‘ نامی فوجی اڈے پر منتقل کردیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں تل ارمیدہ کے مقام پر اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی نوجوان کو گولیاں مار کر زخمی کردیا تھا۔ وہ زخمی حالت میں اٹھنے کی کوشش کررہا تھا کہ اس دوران ایک دوسرا اہلکار اس کے قریب گیا اور اس نے اس کے سرمیں گولیاں مار کر موقع پر ہی شہید کردیا تھا۔
بعد ازاں فلسطینی نوجوان کے وحشیانہ قتل کی ایک فوٹیج بھی سامنے آئی تھی جس اسرائیلی فوج نے سبکی سے بچنے کے لیے عبدالفتاح الشریف کے قاتل کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا تھا۔ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں اسے رہا کرلیا گیا ہے۔
