فلسطینی صدر محمود عباس کے زیرانتظام ‘‘جنرل انٹیلی جنس سیکیورٹی سروسز’’ کی جیل میں گذشتہ دو سال سے زیر حراست ایک فلسطینی سماجی
اور سیاسی رہ نما چھبیس سالہ محمد حسین ابو حدید کو رہا کر دیا ہے۔ ابو حدید کو دو سال قبل ان کے آبائی شہر الخلیل سے حراست میں لیا گیا تھا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق الخلیل شہر کی ایک انسانی حقوق کے خاتون رہ نما لمیٰ خاطر نے میڈیا کو بتایا کہ ابو حدید کی رہائی بیت لحم شہر میں حال ہی میں اسیران کے اقارب اور عباس ملیشیا کے اہلکاروں کے درمیان ہوئے مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ اسیران کےمقربین نے انٹیلی جنس اہلکاروں سے اس وقت مذاکرات کیے تھے جب عباس ملیشیا کی جیلوں میں زیرحراست دسیوں سیاسی کارکنوں نےاپنی بلا جواز حراست کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر رکھی تھی۔ محمد حسین ابو حدید بھی نابلس کی جنید جیل میں قید تھے جہاں ان سمیت بائیس دیگر ساتھیوں نے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی تھی۔ اسیران کے رشتہ داروں کے ساتھ مذاکرات میں عباس ملیشیا نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی شرط پر اسیران کو رہا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
خیال رہے کہ نوجوان فلسطینی سیاسی کارکن محمد حسین ابو حدید کو عباس ملیشیا نے ستمبر دوہزار دس کو الخلیل میں بنی نعیم نامی ایک جہادی آپریشن کے بعد حراست میں لیا تھا۔یہ کارروائی حماس کے ملٹری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے کی تھی جس میں کم سے کم چار یہودی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ ابو حدید کے دو بھائی الحاج حسین ابو حدید اور وجہابو حدید اسرائیل کی صحرائے نقب کی جیل میں پابند سلاسل ہیں جبکہ ایک بھائی ایادابو حدید پہلی تحریک انتفاضہ کے دوران اسرائیلی فوج کے ساتھ لڑائی میں جام شہادت نوش کر گئے تھے۔
