اسرائیلی کنیسٹ نے فلسطینی بدووں کو گھروں سے بے گھر کرنے اور نقب خطے میں ان کے دیہات کو تباہ کرنے کے براور بیغن منصوبے کی پہلے مرحلے میں منظوری دے دی ہے۔
پیر کے روز ہونے والی رائے شماری میں کنیسٹ کے 43 ممبران نے اس منصوبے کے حق میں جبکہ 40 ممبران جن میں 11 عرب ممبران بھی شامل ہیں انہوں نے اس منصوبے کی مخالفت میں ووٹ ڈالے ہیں۔
اس کے نتیجے میں سیشن کے دوران عرب اور یہودی ممبران کنیسٹ کے درمیان گرما گرم بحث بھی دیکھنے کو ملی۔
اس دوران سپیکر یولی یوئیل ادلشتین نے بھی خود کو اس جھگڑے میں شامل کرلیا اور براور بیغن منصوبے کی کاپیوں کو پھاڑ کر پھینکنے والے عرب ممبران کو ایوان سے نکال دیا۔
اس بل کو اب کنیسٹ کی داخلہ امور اور ماحولیاتی کمیٹی کے سپرد کردیا ہے جو کہ اس بل کو دوسرے اور تیسری بار کنیسٹ کے سامنے پیش کرنے کے لئے تیار کرے گی۔ یہ سارے معاملات اگلے ماہ کے دوران حل ہوسکتے ہیں۔
براور بیغن منصوبے کی وجہ سے 1948 کے مقبوضہ علاقوں کے جنوب میں واقع نقب کے علاقے میں درجنوں غیر تسلیم شدہ فلسطینی دیہات کو تباہ کردیا جائے گا اور ہزاروں فلسطینی بدووں کو ان کے گھروں سے بے گھر کردیا جائے گا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
