1948 کے مقبوضہ علاقے کے فلسطینیوں نے عرب علاقے نقب کی ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضے اور ہزاروں کی عرب آبادی کو ہجرت پر مجبور کرنے کے اسرائیلی پریفر منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔
پریفر منصوبہ، اسرائیلی پارلیمان میں جس کی پہلی خواندگی ہو چکی ہے، کے تحت اسرائیل نقب کی 800 ایکڑ اراضی پر قبضہ کرلے گا۔ اس طرح فلسطینیوں کے 36 دیہاتوں کو منہدم کرکے 40 ہزار کے لگ بھگ فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت سن 48 ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقے کے کل عرب باشندوں کے 30 فیصد متاثر ہونگے۔
عرب آبادی کی سپریم فالو اپ کمیٹی جس میں فلسطین کی تمام سیاسی اور قومی جماعتیں شامل ہیں، نے خبر رساں ایجنسی ”قدس پریس” کو بتایا کہ اسرائیلی کنیسٹ کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہےکہ وہ پریفر منصوبہ آج پیر کے روز پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کردے گی۔ جس کے بعد پارلیمان میں اس کی دوسری اور تیسری خواندگی ہوگی۔
کمیٹی نے بتایا کہ اس کالے قانون کی منظوری کی کوششوں کے خلاف ہی ہڑتال کی جارہی ہے۔ اس قانون کے تحت اسرائیلی حکومت نے ہم پر حملے تیز کردیے ہیں اور ہمارے حقوق، ہمارے گھروں اور اراضی کی بقا خطرے میں ڈال دی ہے۔
فالو اپ کمیٹی نے بتایا کہ اس ظالمانہ منصوبے کے خلاف احتجاجی کیمپ پندرہ مختلف مقامات پر لگائے جائیں گے۔ جن میں مثلث، نقب اور الجلیل کے علاقوں میں بڑا احتجاج کیا جائے گا۔ مرکزی ریلی نقب میں نکالی جائے گی، جو بن گوریون یونیورسٹی سے شروع ہوکر نقب کے بدووں کو ہجرت پر مجبور کرنے والے اسرائیلی ہیڈ کوارٹر پر جا کر اختتام پذیر ہوگی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
