اسرائیلی حکومتی اداروں نے سن 1948ء کے مقبوضہ فلسطین کے علاقے صحرائے نقب فلسطینیوں کے گھروں کو منہدم کرنے کی نئی مہم شروع کر دی ہے۔ اس ضمن میں کسیفہ ٹاؤن میں مطیرات خاندان کی زیر ملکیت ایک گھر کو گرا دیا گیا ہے۔
فلسطینی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نقب کے عرب ٹاؤنز کی در پے ہے اور کسی بھی صورت ان علاقوں کو عربوں سے خالی کروانا چاہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق صہیونی سکیورٹی فورسز کے متعدد ٹینکوں نے جمعرات کے روز علی الصبح نقب کے مختلف علاقوں پر دھاوا بول کر انہدامی کارروائی کا آغاز کر دیا۔
دوسری جانب اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمان) کے عرب رکن طالب ابو عرار کا کہنا ہے کہ یہاں پر گھروں کو مسمار کرنے کا عمل جاری ہے اور یہ سب صرف عربوں کے ساتھ بغض اور ان سے نفرت کی وجہ سے ہے۔ اسرائیلی اسلحے کے زور پر نقب کے غیر تسلیم شدہ تمام آبادیوں کو ختم کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب کئی دہائیوں سے ان علاقوں میں آباد فلسطینی کسی صورت اپنے آباؤ اجداد کے علاقے چھوڑنے کو تیار نہیں۔
خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ابو عرار نے مزید کہا کہ اسرائیلی کارروائیوں سے نقب میں بسنے والے فلسطینیوں کے حوصلے پسند ہونے کے بجائے بلند ہوتے جا رہے ہیں ۔ اہالیان نقب کسی بھی صورت میں اسرائیل کی حکومت کی شرائط پر اس مسئلے کے حل پر تیار نہیں ہونگے۔ اسرائیل اس مسئلے کے حل میں آسانی نہیں بلکہ مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا اس بارے میں اصل مشکل قانونی نہیں سیاسی ہے۔ عبرانی ریاست ہمارے ساتھ دشمنوں والا سلوک کر رہی ہے حالانکہ ہم حق پر ہیں، ہمارا نقب کے حوالے سے مطالبہ بالکل درست ہے کہ یہاں پر موجود تمام غیر تسلیم شدہ دیہاتوں کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے اور ان فلسطینیوں کی اراضی پر قبضے کا سلسلہ روکا جائے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
