سن 1948ء کے مقبوضہ فلسطین کے علاقے نقب میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے اسکولوں کو قریبی آباد شقیب السلام منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف فلسطینی طلبہ کے والدین اور اہل علاقہ نے زبردست احتجاج کیا ہے۔ فلسطینی اسکولوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ بھی اسی صہیونی پروگرام کاحصہ ہے جس کے مطابق اسرائیل نقب میں آباد عربوں کو ہجرت پر مجبور کرکے ان کی اراضی پر قبضہ جمانا چاہتا ہے۔
وادی النعیم گاؤں اور طلبہ امور کی تنظیموں کے عہدیداروں نے اس ضمن میں اسرائیلی تعلیم و تربیت کے وزیر شائے بیرون کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں وادی النعیم کے اسکولوں، جن میں اس وقت 3000 طلبہ پڑھتے ہیں، کو دوسرے علاقے میں منتقل کرنے کی صورت میں بھوک ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔
مقامی کمیٹی کے سربراہ لباد ابو عفاش کا کہنا ہے کہ اسرائیلی متعلقہ وزارت کے اس انتہائی ظالمانہ فیصلے کے خلاف طلبہ امور کی کمیٹیوں اور دیگر مقامی تنظیموں نے بھرپور احتجاج کا پروگرام بنایا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو امتیاز پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ بھی علاقے کے مکینوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کا ایک اوچھا ہتھکنڈہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے بچوں کے تعلیم کے بنیادی حق کے دفاع کے لیے یہ ہمارا پہلا اقدام ہوگا جس کے بعد ہم دیگر تمام قانونی وسائل بھی استعمال کرینگے۔
ادھر مقامی کمیٹی کے رکن یوسف الزیادین نے بھی اس فیصلے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ فلسطینی بچوں کے اسکولوں کو دوسرے علاقے میں منتقل کرکے اسرائیل وادی النعیم کے رہائشیوں پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس ضمن میں کئی سال قبل بھی وزارت تعلیم اور دیگر وزارتوں کی جانب سے ان اسکولوں کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا تاہم ہم نے اس وقت بھی اسے ماننے سے انکار کردیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
