اسرائیلی فوج نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں الخلیل شہر کی تاریخی جامع مسجد ’’حرم ابراہیمی‘‘ میں داخل ہوکر نہ صرف اس کے اندر سے جامع تلاشی لی
بلکہ اس مقدس مقام کی بے حرمتی کے بھی مرتکب ہوئے۔ تلاشی کی کارروائی کے بعد صہیونی حکام مسجد کی تعمیر و مرمت کے لیے لایا گیا سامان بھی یہ کہہ کر قبضے میں لے لیا کہ اسے صہیونی فوجیوں پرحملوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق نمازیوں اور مقامی شہریوں کو کہنا ہے کہ مسجد ابراہیمی پر حملے کے دوران اسرائیلی فوج کے اہلکاروں کے علاوہ مقامی ضلعی صہیونی انتظامیہ کے عہدیدار بھی موجود تھے۔ انہوں نے مسجد کے اندر داخل ہو کر اس کی الماریوں تک ہرچیز کی جامع تلاشی لی۔ اس دوران مسجد کے تمام ملازمین اور خادموں کو وہاں سے باہر نکال دیا گیا تھا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ یہودی فوجی مسجد ابراہیمی میں داخل ہوکر سیگریٹ نوشی کرتے رہے، کیونکہ جب نمازی مسجد میں دوبارہ داخل ہوئے تو اس کے اندر سے سیگریٹ کا دھواں اور اس کی بدبو کے ہول اٹھ رہے تھے۔ اس پر فلسطینی شہریوں نے مسجد کا اندر کا ماحول بہتر بنانے کے لیے ’’ایئر فریشر‘‘ سے چھڑکاؤ کیا۔ اس کے باوجود کئی گھنٹے تک مسجد کے اندر سیگریٹوں کی بدبو موجود رہی۔
ادھر صہیونی فوجیوں نے جاتے وقت مسجد کی تعمیرو مرمت کے لیے لایا گیا سامان بھی قبضے میں لے لیا۔ جب مسجد کی انتظامیہ نے منع کیا تو صہیونی فوجیوں نے انہیں یہ کہہ پیچھے ہٹا دیا کہ یہ اشیاء اسرائیلی فوجیوں پر حملوں میں استعمال ہونے کا اندیشہ ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

