فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی قصبوں میں یہودی آباد کاروں کی بلا جواز مداخلت اور دھاووں کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق پیر کو علی الصباح مغربی کنارے کے شہر نابلس کے جنوب میں مشرق میں عورتا کے مقام پر سیکڑوں یہودی آبادکار جمع ہوئے اور تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کیں۔
شرپسند یہودیوں کے تحفظ کے لیے بڑی تعداد میں صہیونی پولیس اور فوج کوبھی تعینات کیا گیا تھا۔ عورتا کے مقامی فلسطینی باشندوں نے صہیونی فوج پرپتھراؤ کیا، جواب میں قابض فوج نے ان پراشک آور گیس کے شیل پھینکے جس کے نتیجے میں کم سے کم دو شہری زخمی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق نماز فجر کے وقت میں یہودیوں کا اتنی بڑی تعداد میں جمع ہونا مقامی فلسطینی آبادی کے لیے باعث تشویش تھا۔ فلسطینی قابض فوجیوں اور یہودی آباد کاروں کی اتنی کثیر تعداد کو وہاں پر دیکھ کر سخت پریشان اور خوف میں مبتلا تھے۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہودی آباد کاروں کے چلے جانے کے بعد نابلس میں متمرکز صہیونی فوج نے الجنید، رفیدیا اور النجاح نیشنل یونیورسٹی کے ہاسٹل میں چھاپے مارے اور شہریوں کو زدو کوب کیا۔ تاہم کسی شخص کی گرفتاری کی اطلاعات نہیں مل سکیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
