فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی مسلط کردہ سات سال سے جاری معاشی ناکہ بندی کے اور جنگوں کے نتیجے میں شہر اندھیرے میں ڈوب چکا ہے۔ غزہ کی پٹی میں چار سو پھیلی تاریکی اور شہریوں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر ایک تازہ مہم نہایت کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق سماجی میڈیا پرعرب ممالک، مسلم دنیا حتیٰ کہ یورپ اور مغربی ملکوں سے بھی ہزاروں افراد اس مہم کا حصہ بن کر اہالیان غزہ کی آواز کو پوری دنیا میں پہنچا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سماجی کارکنوں کی جانب سے #GazaLights کے عنوان سے تازہ مہم شروع کی گئی ہے جس میں اہالیان غزہ سے اظہار یکجہتی کے لیے 50 منٹ کے لیے روشنیاں بجھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اس مہم کو نہ صرف عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے بلکہ دنیار بھر کے کئی شہروں میں تاریکی میں ڈوبے غزہ کے ساتھ یکجہتی کے لیے تجارتی مراکز، شہروں اور اہم عمارات کی روشنیاں کچھ دیر کے لیے بند رکھی جا رہی ہیں۔
سماجی کارکنوں اور مہم چلانے والے کارکنان نے جمعہ کے روز بتایا کہ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹس کے ذریعے انتہائی موثر مہم چلائی ہے۔ وہ اس مہم کا حصہ بننے والے ممالک کےعوام سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ مقامی وقت کے مطابق سات اور آٹھ بجے شب روشنیاں گل کردیں۔
ایک فلسطینی سماجی کارکن سلیمانی حجازی نے اپنے اطالوی صفحے پر بتایا کہ ان کا مقصد غزہ کی پٹی میں شہریوں کو درپیش توانائی کے بحران کے بارے میں عالمی برادری کو آگاہ کرنا اور غزہ کے محاصرے کے خاتمے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے یہ امر نہایت حیران کن ہے کہ دنیا بھر سے اتنی بڑی تعداد میں لوگ اہالیان غزہ سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کی مہم کا حصہ بن رہے ہیں۔ سلیمان حجازی کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ بھی کافی ہے کہ دنیا معنوی طور پر ہمارے ساتھ ہے۔
خیال رہے کہ صہیونی فوج نے سنہ 2007 ء کے بعد سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کررکھا ہے۔ شہر میں پاور جنریٹرز کو چلانے کے لیے ایندھن کی فراہمی معطل ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں کئی باری مسلط کی گئی جنگ کے نتیجے میں مقامی پاور اسٹیشن تباہ ہوچکے ہیں۔ مغربی کنارے سے بھی بجلی کی سپلائی بند جبکہ مصری حکومت کی طرف سے بھی بجلی روک دی گئی ہے۔ ایسے میں غزہ کی پٹی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 سے 20 گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔
