اردن کے معروف اسلامی رہنما ڈاکٹر اسحق فرحان نے منگل کے روز اسلامی تعاون تنظیم کے مکہ میں ہونے والے ھنگامی اجلاس کو محض ضابطے کی کارروائی قرار دیتے ہوئے
کہا کہ یہ اجلاس صرف کندھوں سے بوجھ اتارنا ثابت ہوگا جس سے القدس کو یہودیانے کی اسرائیلی کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئیگی۔
خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ کے مطابق ڈاکٹر اسحق فرحان کا کہنا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس مسلمانوں بالخصوص فلسطینیوں کی مشکلات ختم کرنے کے لیے ہمیشہ کاغذی قراردادیں ثابت ہوئی ہیں جن سے عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حالانکہ 1969ء میں او آئی سی کی تشکیل ہی مسجد اقصی میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد ہوئی تھی جس کے بعد امید پیدا ہوگئی تھی کہ عالم اسلام کی تمام طاقتیں جمع ہوکر عالمی اداروں میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کا دباؤ بڑھائیں گی۔ لیکن تجربے سے یہ ثابت ہوا کہ او آئی سی کے معمول کے تمام اجلاسوں کے ساتھ ساتھ غیر معمولی اجلاس بھی صرف قراردادوں کا پلندہ ثابت ہوئے۔ ان اجلاسوں میں بھی عمل کے بجائے صرف باتیں کی جاتی ہیں، آج دنیا کے ایک چوتھائی حصے پر مشتمل اسلامی ریاستیں عزم کریں تو کچھ بھی کر سکتی ہیں۔
عالم اسلام کی معروف شخصیت ڈاکٹر فرحان نے مکہ کانفرنس اور عرب اور اسلامی دنیا کے قائدین سے مطالبہ کیا کہ فلسطین کو خاتمے سے بچانے اور اس کی حفاظت کے لیے عملی طور پر کچھ کریں، ان کا کہنا تھا کہ القدس اور فلسطین کی نصرت دو طرح سے ہوگی، پہلے تو فلسطینی سرزمین پر جاری مزاحمتی تحریک میں شریک افراد اور جماعتوں کی مدد کی جائے اور فلسطین کو آزاد کروانے کے لیے مسلح مزاحمت کا بھرپور تعاون کروایا جائے۔ دوسرا یہ کہ ثقافتی اسلحے سے بھی فلسطینیوں کی مدد کی جائے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اسلامی ممالک میں مسئلہ فلسطین سے آگاہی ختم ہوتی جارہی ہے۔ نئی نسل کے نصاب تعلیم میں مسئلہ فلسطین کو ختم کیا جارہا ہے، جیسا کہ اردن میں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب یہودی ہزاروں سالوں سے اپنی نسلوں کو باور کروا رہے ہیں کہ فلسطین پر ان کے موروثی حق ہے۔ لیکن دوسری طرف اسلامی ملک خواب غفلت کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں حتی کہ ثقافتی طور پر بھی فلسطین کو بھلا بیٹھے ہیں ضرورت اس بات کہ ہے تمام اسلامی ممالک کے نصاب تعلیم میں مسئلہ فلسطین کے متعلق مواد کو شامل کیا جائے تاکہ نئی نسلوں کے دلوں میں مسئلہ فلسطین کی حقیقت زندہ رہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
