• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

’مکہ کانفرنس‘ محض بوجھ اتارنا ہے، القدس کو یہودیانے کا عمل نہیں رکے گا: اسلامی رہنما

پیر 13-08-2012
in فلسطین
0
plf makka conference
0
SHARES
0
VIEWS

 

 

اردن کے معروف اسلامی رہنما ڈاکٹر اسحق فرحان نے منگل کے روز اسلامی تعاون تنظیم کے مکہ میں ہونے والے ھنگامی اجلاس کو محض ضابطے کی کارروائی قرار دیتے ہوئے

کہا کہ یہ اجلاس صرف کندھوں سے بوجھ اتارنا ثابت ہوگا جس سے القدس کو یہودیانے کی اسرائیلی کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئیگی۔

خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ کے مطابق ڈاکٹر اسحق فرحان کا کہنا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس مسلمانوں بالخصوص فلسطینیوں کی مشکلات ختم کرنے کے لیے ہمیشہ کاغذی قراردادیں ثابت ہوئی ہیں جن سے عملی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ حالانکہ 1969ء میں او آئی سی کی تشکیل ہی مسجد اقصی میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد ہوئی تھی جس کے بعد امید پیدا ہوگئی تھی کہ عالم اسلام کی تمام طاقتیں جمع ہوکر عالمی اداروں میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کا دباؤ بڑھائیں گی۔ لیکن تجربے سے یہ ثابت ہوا کہ او آئی سی کے معمول کے تمام اجلاسوں کے ساتھ ساتھ غیر معمولی اجلاس بھی صرف قراردادوں کا پلندہ ثابت ہوئے۔ ان اجلاسوں میں بھی عمل کے بجائے صرف باتیں کی جاتی ہیں، آج دنیا کے ایک چوتھائی حصے پر مشتمل اسلامی ریاستیں عزم کریں تو کچھ بھی کر سکتی ہیں۔

عالم اسلام کی معروف شخصیت ڈاکٹر فرحان نے مکہ کانفرنس اور عرب اور اسلامی دنیا کے قائدین سے مطالبہ کیا کہ فلسطین کو خاتمے سے بچانے اور اس کی حفاظت کے لیے عملی طور پر کچھ کریں، ان کا کہنا تھا کہ القدس اور فلسطین کی نصرت دو طرح سے ہوگی، پہلے تو فلسطینی سرزمین پر جاری مزاحمتی تحریک میں شریک افراد اور جماعتوں کی مدد کی جائے اور فلسطین کو آزاد کروانے کے لیے مسلح مزاحمت کا بھرپور تعاون کروایا جائے۔ دوسرا یہ کہ ثقافتی اسلحے سے بھی فلسطینیوں کی مدد کی جائے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اسلامی ممالک میں مسئلہ فلسطین سے آگاہی ختم ہوتی جارہی ہے۔ نئی نسل کے نصاب تعلیم میں مسئلہ فلسطین کو ختم کیا جارہا ہے، جیسا کہ اردن میں بھی ایسا ہی کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب یہودی ہزاروں سالوں سے اپنی نسلوں کو باور کروا رہے ہیں کہ فلسطین پر ان کے موروثی حق ہے۔ لیکن دوسری طرف اسلامی ملک خواب غفلت کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں حتی کہ ثقافتی طور پر بھی فلسطین کو بھلا بیٹھے ہیں ضرورت اس بات کہ ہے تمام اسلامی ممالک کے نصاب تعلیم میں مسئلہ فلسطین کے متعلق مواد کو شامل کیا جائے تاکہ نئی نسلوں کے دلوں میں مسئلہ فلسطین کی حقیقت زندہ رہے۔

بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.