(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل میں غیرسرکاری سطح پر کیے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے میں یہودیوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ فلسطین میں جاری موجودہ تحریک انتفاضہ’القدس‘ ماضی کی تمام انتفاضہ تحریکوں سے زیادہ خوفناک اور خطرناک ہے۔
اسرائیل کے ایک تھینک ٹینک ’سمیتھ‘ کے زیراہتمام کیے گئے سروے میں یہودیوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ سنہ 2000 ء میں فلسطین میں تحریک انتفاضہ الاقصٰی جسے تحریک انتفاضہ دوم بھی کہا گیا تھا موجودہ تحریک انتفاضہ سے زیادہ خطرناک نہیں تھی۔ تقابلی طورپر دیکھا جائے تو موجودہ تحریک زیادہ خوفناک اور خطرناک ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 51 فی صد یہودی رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ فلسطین میں جاری تحریک انتفاضہ کے باعث امن وامان کی صورت حال انتفاضہ الاقصیٰ کے دور سے زیادہ خطرناک ہے۔ 53 فی صد یہودیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں امن وامان کی موجودہ صورت حال پچھلے دو تین برسوں کی صورت حال سے زیادہ خوفناک ہے۔
سروے میں حصہ لینے والے 56 فی صد یہودیوں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی تحریک مزاحمت اور فدائی حملوں کے خوف سے وہ پبلک مقامات اور پرھوم شہروں کی طرف سفر سے گریز پر مجبور ہوئے جب کہ 69 فی صد یہودیوں نے کہا کہ یہودیوں کے پاس اپنے دفاع کے لیے اسلحہ کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر وہ خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔
خیال رہے کہ فلسطین میں گذشتہ برس اکتوبر میں قبلہ اوّل پر یہودی یلغار کے بعد فلسطینی شہریوں نے تحریک انتفاضہ القدس کا آغاز کیا تھا۔ اس تحریک کو کچلنے کے لیے اسرائیل نے دو سو سے زائد فلسطینی شہید کیے ہیں مگر فلسطینیوں کی یہ تحریک اب بھی جاری و ساری ہے۔
