مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فتح کے مرکزی رہ نما بسام زکارنہ نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ محمد داحلان فلسطینیوں کے خلاف اپنے مکروہ عزائم آج بھی بدستور جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کی مشکوک حرکات فلسطینیوں نے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں، کیونکہ اس نے عرب ملکوں اور فلسطین کے اندر کئی خفیہ گروہ تشکیل دے رکھے ہیں جو نہ صرف فلسطینیوں کی جاسوسی کرتے ہیں بلکہ فلسطین میں انتشار بھی پھیلا رہےہیں۔
ایک سوال کے جواب میں بسام زکارنہ کا کہنا تھا کہ محمد دحلان مصرمیں اخوان المسلمون کے خلاف بھی سرگرم ہیں اور وہ فلسطینیوں کے درمیان جاری مفاہمتی اور مصالحتی کوششوں کو بھی سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔
فتح رہ نما کا کہنا تھا کہ دحلان کو فلسطینی سیاست سے بے دخل کیے جانے کے بعد فلسطینی عوام اور سیاسی حلقوں پر سخت غم وغصہ ہے اور وہ اپنا غصہ فلسطینیوں کی جاسوسی کرکے نکالنا چاہتا ہے۔ انہوں نے دحلان کو ملک وقوم کا دشمن قرار دیا اور کہا کہ دحلان اسرائیلی ایجنڈے پر چل رہا ہے اور اسرائیل کے ساتھ ساز باز کرکے صدر محمود عباس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں محمد زکارنہ کا کہنا تھا کہ دحلان کے پاس فلسطین واپسی کا کوئی پرامن راستہ نہیں بچا ہے وہ اگر فلسطین آیا تو پہلے اسے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ وہ الفتح کی صفوں میں پھوٹ پیدا کرکے پارٹی کی قیادت کو قتل کرنے کی سازشیں کرتا رہا ہے۔
خیال رہے کہ محمد دحلان کو تین سال قبل الفتح سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد وہ ملک سے فرار ہوگئے تھے۔ فرار کے بعد انہوں نے مختلف عرب ملکوں میں قیام کیا، تاہم فلسطین میں ان کے خلاف مقدمات کے قیام کے باعث واپسی کے راستے مسدود ہوچکے ہیں۔ محمد دحلان اورصدر محمود عباس کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی ہے اور دونوں رہ نماؤں میں تعلقات ختم ہوچکے ہیں۔
