اسرائیلی زیر حراست اسیر کے بیٹے نے اپنے والد سے ملاقات کے دوران برتے جانے والے صہیونی اہلکاروں کے توہین آمیز سلوک کی سخت مذمت کی ہے۔ ایشل جیل میں موجود فلسطینی قیدی کے بیٹے نے بتایا کہ وہ جب کبھی اپنے والد سے ملنے آیا، اس کے ساتھ انتہائی گھٹیا سلوک کیا گیا۔
”مرکز اطلاعات فلسطین” کے نمائندے سے گفتگو کے دوران فلسطینی اسیر کے بیٹے نے اس خوف سے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کہ کہیں اسرائیلی جیل انتظامیہ انتقامی کارروائی کرتے ہوئے جیل میں اس کے والد کو تشدد کا نشانہ نہ بنا ڈالے۔
صہیونی عقوبت خانے میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے فلسطینی اسیر کے بیٹے نے بتایا کہ ابو سے ملاقات کا کٹھن سفر ”بیت حانون” کراسنگ سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ جہاں پر ہمیں گھنٹوں انتظار اور تفتیشی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسرائیلی اہلکار والدہ کو اشتعال دلانے اور ملاقات سے انکار کرنے پرمجبور کرنے کے لیے انتہائی نازیبا سوالات کرتے ہیں۔ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ”کیا تمھارے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ تو نہیں ہیں؟” انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے بھی جب ہم نام نہاد اسرائیلی ریاست میں داخل ہونے کے لیے رفح کراسنگ پر موجود تھے تو ہمیں بے انتہاء زچ کیا گیا، ان سب اوچھی حرکتوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ غصے میں آکر ہم کوئی بھی غیر قانونی اقدام اٹھائیں اور ہمارے خلاف کارروائی شروع کردی جائے۔
اسیر کے بیٹے نے مزید بتایا کہ میری والدہ اور اسی طرح دیگر اسیران کے گھر والوں کی خواتین کی بھی بڑی تفصیلی تلاشی لی گئی اور دوران تفتیش ان سے نازیبا سوالات پوچھے جاتے رہے۔
اسرائیلی جیل انتظامیہ کے اہلکار جان بوجھ کر کئی کئی منٹ اپنا فون سنتے رہتے ہیں جس کا مقصد اسیران کے رشتہ داروں کا وقت ضائع کرنا ہوتا ہے تاکہ ان کی ملاقات کے محدود وقت کو زیادہ سے زیادہ ضائع کیا جا سکے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
