فلسطین میں اسلامی مقدسات کی حفاظت کی ذمہ دار تنظیم الاقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں قابض اسرائیلی فوج نے نام نہاد آثارقدیمہ اتھارٹی کے تعاون سے سنہ 1948ء کےمقبوضہ فلسطینی شہر
حیفا میں عین المنسی کے مقام پرمسلمانوں کے ایک تاریخی قبرستان کی مبینہ بے حرمتی کا ارتکاب کیا ہے۔
قابض فوج کے بلڈوزروں اور بھاری میشنری سے تاریخی قبرستان کی کھدائی کے دوران درجنوں قبروں کو اکھیڑ پھینکا اور قبروں میں دفن میتوں کی ہڈیوں کو زمین سے باہر پھینک دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ عین المنسی قصبے پرصہیونی فوج نے سنہ انیس سو اڑتالیس کی جنگ میں قبضہ کرکے قصبے کے تمام مسلمان آبادی کو شہید یا انہیں وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے علاقے کےقبرستانوں اور دیگراہم مقدسات پرصہیونی فوجیوں اور غاصب یہودیوں کا قبضہ قائم ہو چکا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقصیٰ فاؤنڈیشن نے اپنے تازہ بیان میں اطلاع دی ہے کہ تنظیم کے ایک وفد نے حال ہی میں عین المنسی کے اس تاریخی قبرستان کا دورہ کیا، جہاں قبرستان کو جگہ جگہ سے کھدے ہوئے پایا۔ قبرستان میں موجود کئی پرانی قبروں کو کھود کر ان کی میتوں کی ہڈیوں کو نکال کرباہر پھینکا گیا ہے۔
اقصیٰ فاؤنڈیشن نے مسلمانوں کے قبرستان کی اس طرح بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صہیونیوں کی فلسطین دشمنی کی انتہا قراردیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ انتہا پسند یہودی ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔ انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں جہاں زندہ فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں وہیں غاصب یہودی ان کی قبروں کو بھی ختم کرکے فلسطین میں اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتےہیں۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن نے عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے فلسطین میں مسلمانوں کے قبرستانوں اور دیگرمقدس مقامات کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
