اسرائیلی کنیسٹ کی عرب شہروں سے منتخب خاتون رکن حنین الزعبی نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت شمالی فلسطین کے سنہ 1948 ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے شہرالجلیل میں کم سے کم ایک لاکھ یہودیوں کو آباد کرنے کی ایک اسکیم تیار کر رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ الجلیل میں ہزاروں یہودیوں کی آباد کاری کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے جن کی ذمہ داری اسرائیل پرعائد ہوگی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الجلیل میں ایک دوسرے رکن پارلیمنٹ حنا سوید کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزعبی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے دیگرشہروں کی طرح الجلیل شہرمیں کم سے کم ایک لاکھ یہودیوں کو دنیا بھر سے اٹھا کر منتقل کرنے اور انہیں وہاں آباد کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اعلانیہ فلسطینی آبادی کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا بھر سے یہودیوں کو یہاں منتقل کررہا ہے۔ ان تمام سازشوں کا مقصد فلسطینیوں کو آبادی میں اقلیت ثابت کرتے ہوئے فلسطینی اراضی پرغاصبانہ قبضے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں حنین الزعبی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے والے ممالک فلسطینی شہروں میں یہودی توسیع پسندی میں مدد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک جانب صہیونیوں کی دن بہ دن تقویت پکڑتی جارحیت کا سامنا ہے اور دوسری جانب اسرائیلی حکومت کے کولونیل ازم کی سازش کا مقابلہ ہے۔ اسرائیل مختلف سازشوں اور حیلوں بہانوں سے فلسطینیوں کی اراضی ہتھیا کر اس پریہودیوں کو آباد کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الجلیل خالص عرب علاقہ ہے لیکن اسرائیل اسے ہر صورت میں یہودیت میں تبدیل کرکے اس پر اپنا قبضہ مستحکم کرنا چاہتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
