فلسطین کی منظم مذہبی اور سیاسی جماعت حماس نے کہا ہے کہ قاہرہ میں مصری حکومت کی نگرانی میں ہونے والے حماس اور فتح کے مذارکرات میں اہم پیش رفت کا امکان ہے۔
حماس نے واضح کیا ہے کہ مفاہمت کے لیے تنظیم کی قیادت نے آخری حد تک لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور اب گیند فتح کے کورٹ میں ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری نے غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس سے خظاب میں کہا کہ قاہرہ میں منگل کے روز حماس اورفتح کی مرکزی قیادت کےدرمیان جو بات چیت ہوئی وہ حوصلہ افزاء رہی اور خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قاہرہ مذاکرات کی کامیابی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں الیکشن کمیٹی نے ووٹوں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے پراتفاق کیا ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم اسماعیل ھنیہ کو رجسٹریشن کا نگراں مقرر کیا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ منگل کو قاہرہ میں فتح اور حماس کے اجلاس میں حماس کی قیادت کی طرف سے کسی قسم کی پشگی شرائط نہیں رکھی گئیں۔ حماس نے انتشار اور بے اتفاقی کو ختم کرنے اور قومی مفاہمت کے لیے ہر ممکن لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ آخری حد تک لچک کا مظاہرہ کرنے کے بعد آخری فیصلہ فتح نے کرنا ہے کہ آیا وہ حماس کی اس لچک سے فائدہ اٹھاتی ہے یا نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ابو زھری نے فتح رہ نما عزام الاحمد کے اس بیان کی شدید مذمت کی اور اسے مسترد کردیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسماعیل ھنیہ غزہ کی پٹی میں الیکشن کمیٹی کے کام سے قبل کچھ شرائط پیش کرنا چاہتے ہیں۔ حماس کے ترجمان نے واضح کیا کہ اسماعیل ھنیہ کی طرف سے الیکشن کمیشن کے کام سے متعلق کسی قسم کی شرائط کا ذکر نہیں کیا گیا۔ فتح کی قیادت اس طرح کے متنازعہ بیان بازی سے مفاہمت کی مساعی کو خود ہی مشکل میں ڈال رہی ہیں۔

