قاھرہ میں فلسطینی جماعتوں کے مفاہمت کے نتیجے میں تشکیل دی گئی بنیادی آزادیوں کی کمیٹی کے سربراہ اور جہاد اسلامی کے معروف رہنما خالدالبطش نے غزہ میں وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کے اقدامات کو سراہا ہے
اور فلسطینی اتھارٹی سے بھی ایسے ہی اقدامات اٹھانے اور کمیٹی کے ساتھ تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطینی روزنامے ’’فلسطین الیوم‘‘ کی ویب سائٹ پر شائع اپنے بیان میں خالد بطش کا کہنا ہے ہم فلسطینی حلقوں میں تقسیم کے شگاف کو کم کرنے کیکوشش کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں قومی مفاہمت کی گاڑی چل پڑی ہے اگرچہ اس کی رفتار ابھی بہت آہستہ ہے۔
انہوں اس امید کا اظہار کیا کہ رواں ماہ کے آخر میں سیاسی گرفتاریوں سے پیدا ہونے والے مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا اور مغربی کنارے اور غزہ کے دو حصوں میں بٹی فلسطینی حکومت بھی ختم ہو جائے گی اور ایک متحدہ فلسطینی حکومت بحال ہوجائے گی۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ فلسطین کی منتخب حکومت اور تحریک حماس نے بنیادی آزادیوں کے کمیشن کی تجاویز کے مطابق بیشتر اہم اقدامات اٹھائے ہیں، اسی طرح ایک ہفتہ قبل فلسطینی منتخب حکومت کے وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے صدر محمود عباس کے غزہ میں موجود دفتر کو فتح کی سرگرمیوں کے لیے کھولنے کی اجازت دے دی تھی۔
دوسری جانب تحریک فتح اور اسی کی نمائندہ مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے آزادی کمیشن کی تجاویز پر عمل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ مفاہمت کے باوجود تاحال مغربی کنارے میں حماس کے حامیوں کی گرفتاریاں جاری ہیں

