فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے منتخب وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ اصل مفاہمت کا اعلان کوئی مسئلہ نہیں بلکہ مفاہمت کوعملی شکل میں نافذ کرنے کے بعد اس پر قائم رہنا اصل آزمائش ہے۔
وزیراعظم نے یہ بات غزہ کی پٹی میں نماز جمعہ کی امامت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ تمام معاملات صحیح سمت کی جانب چل رہے ہیں، مفاہمت کا اعلان کوئی بڑی بات نہیں بلکہ اصل آزمائش اس پر قائم رہنے میں ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ قاہرہ میں حماس اور فتح کی قیادت کے درمیان ہونے والی مفاہمت میں جن امور پرعمل درآمد کا اعلان کیا گیا ہے ان پر کب اور کتنا جلدی عملدرآمد ہوتا ہے۔ اس وقت ایک بڑا مسئلہ فلسطینی سیاسی جماعتوں کے اسیران کا ہے۔ مغربی کنارے میں عباس ملیشیا کی جیلوں میں زیرحراست فلسطینیوں کو رہا کرنے میں تاخیر سے کام لیا گیا تو مفاہمتی کوششوں کونقصان پہنچے گا۔
ایک سوال کےجواب میں فلسطینی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قاہرہ میں اسلامی جہاد، فتح اور حماس کی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد تنظیم آزادی فلسطین کے انتخابات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم فلسطین میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے ایک ساتھ کرانے کے حامی ہیں کیونکہ پی ایل او کی جمہوری بالادستی کا یہ بہترین راستہ ہے۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ حماس اپنے نظریے اور طریقہ کار کے مطابق تنظیم آزادی فلسطین میں شریک ہو رہی ہے۔ اب تمام فلسطینی جماعتوں کو مل کر تنظیم آزادی فلسطین کے اہداف اور اس کا ایجنڈا طے کرنا ہے۔
اپنے بیرون ملک دورے کےبارے میں اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ وہ عرب ممالک کے دورے کا شیڈول بنا رہے ہیں اور جلد ہی وہ بیرون ملک دورے پر جائیں گے۔

