مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت بطور تزویراتی اختیار استعمال کی حامی سیاسی جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے حماس کے مزید تین حامیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اسرائیل کے تحفظ کی ضامن اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے الخلیل، بیت لحم اور نابلس میں کارروائیاں کیں۔
تمام فلسطینی جماعتوں کے ساتھ مفاہمت اور سیاسی گرفتاریوں کے خلاف مسلسل جاری احتجاجی مظاہروں کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے محمود عباس کی سربراہی میں کام کرنے والی فلسطینی اتھارٹی اسرائیل سے اپنا ناطہ توڑنے اور اس کے لیے سکیورٹی خدمات کی فراہمی سے کسی صورت دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
بیت لحم میں عباس ملیشیا نے سابق اسیر علی حمدان شواورہ کو ان کے گھر پر چھاپہ مار کر اٹھایا، کئی سال صہیونی عقوبت خانوں میں بتانے والے شواورہ صرف دو دن پہلے ہی اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی حراست سے رہا ہوئے تھے کہ اتھارٹی کے ہاتھوں دھر لیے گئے۔
الخلیل میں بھی اتھارٹی کی نام نہاد پری وینٹو فورسز نےایک نوجوان صالح جویلس کو گرفتار کیا۔ وہ بھی اس سے قبل اتھارٹی اور اسرائیل کی جیلوں میں کافی عرصہ قید و بند کی صعوبتیں کاٹ چکے ہیں۔ شہر نابلس سے نجاح یونیورسٹی کے طالب علم سمیر ابو شعیب کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک نوجوان صلاح زھدی قواریق کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

