فلسطین کے مشرقی حصے غزہ میں قائم حکومت نے مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف جارحیتوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
حکومت کے بہ قول عباس ملیشیا کی جانب سے سیاسی اختلافات کی بنا پر اپنے ہی ہم وطنوں کی گرفتاریاں فلسطینی مفاہمت کی بھی خلاف ورزی ہے۔
منگل کی شام جاری اپنے بیان میں اسماعیل ھنیہ کی سربراہی میں قائم فلسطینی حکومت کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں جاری مظالم کی وجہ سے مفاہمت کی طرفداری کرنے والے افرادکی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت نے اس موقع پر مفاہمت کی نگرانی کرنے والے مصر سے فوری مداخلت کر کے شہریوں کی بنیادی آزادیاں سلب کرنے کی کارروائیوں کو رکوانےکا مطالبہ کیا اور کہا کہ انہیں اسباب کی وجہ سے غزہ میں ووٹرز کی رجسٹریشن کا عمل روکا گیا ہے۔
غزہ کی حکومت نے کہا کہ مغربی کنارے میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا یکطرفہ فیصلے کی وجہ سے تمام فلسطینی جماعتوں کے مابین ہونے والی مفاہمت پر منفی اثر مرتب ہوا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے عوام کی سیاسی اور سماجی آزادیوں پر قدغن لگانے کی پالیسی کے باعث قوم میں کبھی اتفاق رائے نہیں پیدا ہو سکتا۔ فلسطینی حکومت نے مصر اور لیبیا میں جمہوریت کی بحالی کو خوش آئند قرار دیا اور توقع ظاہر کی کہ ان دونوں ملکوں اور ساری عرب دنیا میں ترقی، استحکام اور امن قائم ہو جائے گا۔
حکومت نے گزشتہ روز اسرائیلی جیل سے رہا ہونے والے فلسطینی اسیر محمود سرسک کو مبارکباد پیش کی اور 96 روزہ طویل ترین بھوک ہڑتال کے بعد اپنے حقوق کے حصول میں کامیابی پر محمود سرسک کی جدوجہد کو سراہا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
