رپورٹ کے مطابق بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے کے شہر سلفیت میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں تین فلسطینی شہریوں کو شہید کردیا گیا۔
بدھ کو علی الصباح صہیونی فوجیوں نے بیت المقدس میں ’’باب الجدید‘‘ کے مقام پر ایک فلسطینی کار پرفائرنگ کی جس کے نتیجے میں اس میں سوار دو فلسطینی نوجوان شہید ہوگئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں سڑک پرکھڑا ایک پچاس سالہ فلسطینی بھی شدید زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی کار سے اسرائیل کی ایک مسافر بس پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد فوجیوں نے کار کا تعاقب کرتے ہوئے اسے گولیاں ماریں۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق بیت المقدس میں اسرائیلی فوج کی دہشت گردی میں شہید ہونے والےفلسطینی نوجوانوں کی شناخت 19 سالہ عبدالملک صالح ابو خروب اور 21 سالہ محمد جمال الکالوتی کے ناموں سے کی گئی ہے جن کا آبائی تعلق شمالی بیت المقدس کے کفر عقب قصبے سے ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیت المقدس میں ’’گولڈا مائر‘‘ روڈ سے گذرتے ہوئے فلسطینی کار سے ایک اسرائیلی بس پرفائرنگ کی تھی تاہم اس کے نتیجے میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا ہے۔ پولیس نے مشتبہ کار کا تعاقب کرتے ہوئے اس پرگولیاں برسائیں۔ جواب میں کار سواروں نے بھی پولیس پرگولی چلائیجس کے نتیجے میں ایک اسرائیلی فوجی زخمی ہوا ہے۔
ادھر مغربی کنارے کے شمالی شہرسلفیت میں اسرائیلی فوجیوں نے الزاویہ پل کے قریب ایک فلسطینی لڑکے کو گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں وہ شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے چاقو حملے کے شبے میں ایک فلسطینی لڑکے کو گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا تاہم بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
فلسطینی وزارت صحت نے شہید فلسطینی لڑکے کی شناخت احمد یوسف اسماعیل عامر کے نام سے کی ہے جس کی عمر 16 سال اور تعلق سلفیت کے مسحہ قصبے سے بتایا جاتا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے فلسطین میں جاری اسرائیلی کارروائیوں میں کم سے کم 197 فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔ شہداء میں بیشتر بچے ہیں جب کہ 16 خواتین کو بھی شہید کیا گیا ہے۔
