فلسطین میں قابض یہودیوں کی جانب سے فلسطینی شہروں پرتشدد تو روز کا معمول ہے لیکن فلسطینی باشندوں پرتشدد کےعادی مجرم شدت پسند صہیونیوں نے الخلیل یونیورسٹی میں دورے پرآئے اقوام متحدہ کے وفد کو بھی معاف نہ کیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کے مختلف ممالک سے جامعہ الخلیل میں آئے وفد کو انتہا پسند یہودی آبا کاروں نے اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ یونیورسٹی کی جانب اپنی گاڑیوں پرجا رہے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں نے جامعہ الخلیل کےقریب گھات لگا رکھی اور وہ یو این وفد کا پہلے سے انتظار کررہے تھے۔ جیسے ہی عالمی مندوبین کا وفد ان کے پاس سے گذرنے لگا تو انہوں نے ان کی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کردیا۔ گندے انڈے اور ٹماٹروں سے وفد کی "تواضع” کی گئی۔
یہودیوں کو پتھراؤ سے روکنے اور ان سے بات چیت کے وفد کے بعض ارکان اپنی گاڑیوں سے اترے تویہودی وفد کے ارکان پرپل پڑے۔ جس پراسرائیلی پولیس کو مداخلت کرکے انہیں چھڑانا پڑا ہے۔ یو این وفد میں کئی عرب ممالک کے اساتذہ بھی شامل تھے۔
حملہ آور یہودی آباد کاروں کا تعلق مغربی کنارے کے تاریخی شہر الخلیل کے قریب ” بیت ھداسا” یہودی کالونی سے بتایا جاتا ہے۔ یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں اقوام متحدہ کے وفد کی گوشمالی گوکہ کوئی بڑی بات نہیں کیونکہ انتہا پسند یہودی فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آنے والی اہم شخصیات کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک روا رکھتے ہیں تاہم انتہا پسندوں کے اس اقدام سے کم سے کم اقوام متحدہ کو فلسطینیوں پر ہونے والے روزمرہ تشدد کا اندازہ ضرور ہوا ہو گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

