فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں انتہا پسند یہودیوں کے نہتے فلسطینیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شام یہودی انتہا پسندوں نے بیت لحم میں فلسطینی شہریوں کو کھیتوں میں کاشت کاری کے دوران یہودی آباد کاروں نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
یہودی انتہا پسندوں نے فلسطینی شہریوں کے انگور اور زیتون کے باغات میں گھس کر سیکڑوں پھل دار پودے کاٹ ڈالے۔عینی شاہدین کے مطابق رات گئے یہودی آباد کاروں نے بیت لحم میں حوسان کے مقام فلسطینیوں کے باغات میں گھس کر زیتون اور انگور کے کم سے کم 58 پودے تلف کر دیے۔
مقامی شہری طھ حمامرہ نے میڈیا کو بتایا کہ فلسطینی شہری راجی البساتین جمعہ کو صبح اپنے باغ کو دیکھنے گیا تو وہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ باغ مین زیتون اور انگور کے ساٹھ کے قریب پھل دار پودوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے گئے ہیں۔ حمامرہ نے بتایا کہ راجی کے باغ پر حملہ آور یہودی بیت لحم میں قائم "بیتار علیت” نامی یہودی کالونی سےآئے تھے۔ ماضی میں بھی یہودی آباد کار اسی کالونی سے فلسطینی املاک پر حملے کرتے رہے ہیں۔
