فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت "الفتح” اور مغربی کنارے کی حکمران نے اسرائیل کے ساتھ اردن کی میزبانی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے پانچ ادوار کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فتح کے وزیر برائے امور خارجہ ریاض المالکی نے تسلیم کیا ہے کہ”اسرائیل کے ساتھ گذشتہ بیس سال سے جاری مذاکراتی عمل ناکامی سے دوچار ہوا ہے۔ فلسطینیوں کی موجودہ حالت ماقبل مذاکرات کے بہت خراب ہو چکی ہے۔ اسرائیل نے جنگی بنیادوں پر مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یہودی بستیاں تعمیر کر لی ہیں حالانکہ بیس سال قبل اسرائیل سے امن سمجھوتہ کرنے سے قبل ایسا نہیں تھا”۔
ریاض المالکی کا بیان جسے فلسطینی خبررساں ایجنسی”معا” نے بھی نقل کیا ہے۔ اس میں ان کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے اور فلسطین کے دیگر علاقوں میں اسرائیل کے ساتھ ہمارے سمجھوتے کا مقصد یہودیوں کی مزید آباد کاری کو روکنا تھا لیکن اسرائیل کے ساتھ اس معاہدے کے باوجود فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری روکی نہیں جا سکی ہے۔اسرائیل مسلسل عالمی معاہدوں اور بالخصوص جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے”۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیل کی غیرقانونی سرگرمیوں کی عالمی سطح پر کی جانے والی مذمت نے بھی کوئی خاطرخواہ اثر نہیں ڈالا ہے۔ عالمی سطح پر صہیونی جرائم کی جاندار انداز میں مذمت نہیں کی گئی جس کے باعث اسرائیل نے بھی غیرموثرعالمی ردعمل کا کوئی جواب نہیں دیا۔ فلسطینیوں کی حالات زندگی آج بیس سال قبل کے مقابلے میں زیادہ پریشان کن حد تک خراب ہیں۔ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر، یہودی کالونیوں کے تحفظ کے لیے نسلی دیوار کی تعمیر اور بڑی تعداد میں انتہا پسند یہودیوں کی آباد کاری نے فلسطینیوں کا جینا دو بھر کر رکھا ہے۔
فلسطینی وزیرکا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ سنہ 1948ء کو عرب علاقوں پر اسرائیل کے قیام کے دوران نہیں بلکہ سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے بعد ہوا، کیونکہ اس جنگ میں اسرائیل نے مغربی کنارے، بیت المقدس، غزہ کی پٹی، مصر کے جزیرہ نماء سینا اور شام کی گولان پہاڑیوں پر قبضہ کر کے فلسطینیوں کو سخت مشکلات سے دوچار کر دیا ۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق افریقی یونین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریاض المالکی نے ایک جانب صہیونی ریاست کے ساتھ نام نہاد امن مذاکرات کی ناکامی کا اعتراف کیا اور دوسری جانب اسرائیل سے مذکرات جاری رکھنے کی اہمیت بھی بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ فریقین سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری رکھ کر اپنے تنازعات حل کر سکتے ہیں۔
ریاض المالکی کا کہنا تھا کہ ہماری آزادی کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ ختم نہیں ہو جاتا، لیکن اس جدوجہد کے لیے ہمیں پرامن راستوں کا انتخاب کرنا ہو گا۔

