شہر کے مشرق میں عسکر پناہ گزین کیمپ میں ایک کارروائی کے دوران فائرنگ کر کے ایک فلسطینی شہری کو شہید کر دیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں قلنیہ مہاجر کیمپ میں اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں تین فلسطینیوں کی شہادت کے باعث فضاء پہلے ہی سوگوار ہے۔
عینی شاہدین نے مرکزاطلاعات فلسطین کو بتایا کہ عباس ملیشیا غیرقانونی اسلحہ رکھنے والے افراد کے تعاقب اور اسلحہ کی تلاش میں عسکر کیمپ میں داخل ہوئی۔ اس موقع پر مقامی شہریوں نے سیکیورٹی فورسز کو کیمپ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے ان پر پتھراؤ کیا۔ جواب میں عباس ملیشیا کے غنڈہ گردوں نے نہتے شہریوں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں امجد عودہ نامی ایک نوجوان فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ امجد کے سرمیں گولیاں لگیں، جس پر اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال لے جایا جا رہا تھا کہ زخموں کی تاب نہ لاکر وہ راستے ہی میں دم توڑ گیا۔
خیال رہے کہ فلسطینی سیکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے جام شہادت نوش کرنے والا شہری امجد عودہ اسرائیلی جیلوں میں کئی ماہ تک قید رہ چکا تھا۔ عباس ملیشیا کا دعویٰ ہے کہ اس نے مہاجرکیمپ میں شکوکانی نامی شہری کے گھرکی تلاشی لینا تھی، جس کے بارے میں اُنہیں اطلاع ملی تھی اس گھر میں مبینہ طور پر ‘غیرقانونی’ اسلحہ رکھا گیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نابلس میں رفیدیا اسپتال کے آس پاس بھی مشتعل فلسطینی شہریوں اور عباس ملیشیا کے اہلکاروں کے درمیان آنکھ مچولی جاری رہی۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ کی اور سیکیورٹی فورسز کےخلاف مظاہرے کرنے والے شہریوں پر اشک آور گیس کی شیلنگ کی گئی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
