مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے رہ نما عباس السید کی اہلیہ اخلاص السید نے میڈیا کو بتایا کہ نماز جمعہ کے بعد شہر میں سیاسی گرفتاریوں کے خلاف اور اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنے والے اپنے ہم وطنوں کی حمایت میں ایک پرامن ریلی نکالی گئی، لیکن عباس ملیشیا نے غنڈہ گردی کی انتہا کرتے ہوئے نہتی خواتین اور بچوں کو بھی وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔
عباس السید نے بتایا کہ عباس ملیشیا کے غنڈوں نے سرعام خواتین کو سڑکوں پر گھیسٹا اور ان کے نقاب پھاڑ ڈالے۔ اس وحشیانہ اقدام پر شہرمیں عباس ملیشیا کے خلاف سخت غم وغصے کی فضاء پائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی کوریج کرنے والے "الاقصیٰ” ٹی وی کے فوٹو گرافر کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کا کیمرہ توڑ دیا گیا۔
اخلاص السید کا کہنا تھا کہ ریلی نکالنے کا مقصد فلسطینی جیلوں میں سیاسی بنیادوں پر قید کیے گئے تمام کارکنوں بالخصوص اسلام بدیر اور محمد الھمشری کی فوری رہائی کا مطالبہ تھا لیکن عباس ملیشیا خواتین کی ریلی پر تشدد میں قابض صہیونی فوج سے بھی آگے نکل گئی۔
ادھر اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے خواتین کی ریلی پر لاٹھی چارج اور تشدد کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ فلسطینی سیکیورٹی اداروں کا کام فلسطینی احتجاجی ریلیوں کو تحفظ دینا چاہیے۔ تشدد صہیونی فوج کے ساتھ کھلے تعاون کا بین ثبوت ہے۔
