مغربی کنارے کے مختلف شہروں میں نسلی امتیاز کی مظہر اسرائیلی دیوار کے خلاف عالمی القدس ملین مارچ کی ریلیوں پر سرائیلی فوج کے حملوں کے بعد مظاہرین اور صہیونی اہلکاروں میں زبردست جھڑپیں ہوئیں، جمعہ کے روز ہفتہ وار احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ نعلین میں نکالے گئے ”عالمی ملین مارچ برائے القدس” میں سیکڑوں افراد شریک ہوئے، رام اللہ اور نواحی دیہاتوں سے لوگوں نے تحریک حماس کے معروف رہنما شیخ جمال الطویل کی امامت میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے اکھٹے ہوئے، نماز کی ادائیگی کے بعد نعلین میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور نسلی دیوار کے خلاف ریلی نکالی گئی۔
شیخ جمال الطویل نے اپنے خطبہ جمعہ میں کہا ”فلسطینی قوم قدم بہ قدم اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی ہے، آج کی ریلیاں بھی اپنی منزل کی جانب سفر کا ہی ایک حصہ ہیں، انہوں نے یہودی بستیوں اور نسلی دیوار کی تعمیر کے لیے فلسطینی اراضی پر اسرائیلی قبضے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک صہیونی مقاصد کے لیے علاقے کی سیکڑوں ایکڑ اراضی پر قبضہ جمایا جا چکا ہے۔
نعلین کی ریلی میں شریک حماس کے معروف رہنما حسین ابو کویک نے کہا کہ آج کی یہ ریلی فلسطینی قوم کی جانب سے اہم پیغامات پر مشتمل ہے۔ آج قوم نے عالمی برادری اور اسرائیلی ریاست کو یہ پیغام دیدیا ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے کی تمام صورتوں کو یکسر مسترد کرتی ہے اور اسرائیل کو فلسطینیوں کے مقدس مقامات پر اپنا حق جتانے سے باز رہنا ہوگا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے حملوں میں درجنوں فلسطینی نوجوان زخمی ہوگئے ہیں، صہیونی اہلکاروں نے آنسو گیس کے شیلوں کی بوچھاڑ کرکے القدس ملین مارچ کے شرکاء کو نسلی امتیاز کی مظہر دیوار کے قریب جانے سے روکے رکھا۔
بلعین کی ریلی پر اسرائیلی فوج کے حملوں میں بھی درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی فوج اور فلسطینی نوجوانوں کے درمیان زبردست جھڑپیں ہوئیں۔
بلعین میں نسلی دیوار اور یہودی بستیوں کے خلاف سرگرم قومی کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے فلسطینی مظاہرین پر ربڑ میں ملفوف معدنی گولیاں، آنسو گیس کے شیل اور ساؤنڈ بموں کی بوچھاڑ کردی، جیسے ہی احتجاج دیوار کے قریب پہنچا اسرائیلی فوج اس پر پل پڑی۔
کمیٹی کےمطابق ان حملوں میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں، کمیٹی نے اپنے مسلمہ حقوق پر ثابت قدم رہنے پر زور دیا اور کہا کہ فلسطینیوں کو طاقت کے استعمال سے اپنے حقوق چھوڑنے پر راضی نہیں کا جا سکتا۔
دوسری جانب المعصرہ میں بھی نسلی دیوار اور یہودی بستیوں میں توسیع کے خلاف بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی جسے اسرائیلی فوج نے دیوار کے قریب جانے سے روک دیا، اسرائیلی فوج نے حملہ کرکے ریلی کے شرکاء پر بہیمانہ تشدد شروع کردیا۔ عینی شاہدین نے بتایا جمعہ کے روز نکالی گئی اس ہفتہ وار ریلی میں شریک دو نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے رام اللہ کے شمال مغرب میں ایک فلسطینی بچے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔
رام اللہ شہر کے شمال مغربی گاؤں نبی صالح میں بھی احتجاجی مارچ کیا گیا جس پر اسرائیلی فوج نے اشک آور گیس کے شیلوں اور ربڑ کی گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ بہت سے فلسطینی گھروں اور دیگر تعمیرات کو بھی جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں نکالی گئی ان احتجاجی ریلیوں پر اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئےہیں۔ گاؤں نبی صالح میں فلسطینی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے دو بھائیوں انیس سالہ تمیم اور سترہ سالہ مومن کو گرفتار کرلیا ہے۔ اسی طرح ایک بچے احمد ایاد التمیمی کو بہیمانہ تشدد کر کے زخمی کر دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
