فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس المعروف ابو مازن کے سیاسی مشیر ایڈووکیٹ نمر حماد نے بتایا ہے کہ آئندہ اتوار کو اسرائیل کے نائب وزیراعظم
رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر میں صدر عباس سے ملاقات کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ ملاقات میں فریقین میں وقفے وقفے سے جاری مذاکرات کا حصہ ہے یا نہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق صدر محمود عباس کے مشیر نمر حماد نے میڈیا کوبتایا کہ صدر ابو مازن اتوار کو اسرائیل کے نائب وزیراعظم شاؤل موفاز کا رام اللہ ہیڈ کواٹر میں استقبال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ شاؤل موفاز فلسطینی صدر سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ آیا وہ کسی دوسرے ملک کی طرف سے فلسطینی صدر سے ملنے کے بھیجے جا رہے ہیں یا وہ ذاتی طورپر ابو مازن سے ملنے کے خواہاں ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں فلسطینی اتھارٹی کے عہدیدار مسٹر حماد نے کہا کہ صدر محمود عباس سے اسرائیل کی اہم شخصیات ملاقاتیں کرتی رہتی ہیں۔ ان تمام ملاقاتوں کا یہ مقصد ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ فریقین تعطل کا شکار مذاکرات کا عمل بحال کرنا چاہتے ہیں۔ فی الحال شاؤل موفاذ اور صدر محمود عباس کی ملاقات کا معطل شدہ مذاکرات سےدور یا نزدیک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
دوسری جانب غرب اردن میں حکمراں جماعت الفتح کی سینٹرل کمیٹی کےرکن محمد اشتیہ کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس سے ملاقات کی خواہش اسرائیل کے نائب وزیراعظم نے خود ہی کی تھی۔ جس کے بعد صدر نے انہیں ملاقات کےلیے اتوار کا وقت دیا ہے۔ رام اللہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر اشتیہ نے کہا کہ یہ ملاقات معمول کا حصہ ہے، جس میں کسی بریک تھرو کا امکان نہیں ہے۔ اس طرح کی ملاقاتیں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فلسطین کی جانب سے اسرائیلی عہدیداروں سے ہونے والی ملاقاتوں میں ہر بار اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ اسرائیل امن مذٓاکرات میں سنجیدگی دکھائے۔ ممکن ہے یہ ملاقاتیں فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات بحال کرنے میں مدد گار ثابت ہوں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ملاقاتوں سے یہ عندیہ ضرور ملتا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
